کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو شخص قصہ سنانے کو مکروہ سمجھتا ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں مارے
حدیث نمبر: 27871
٢٧٨٧١ - حدثنا (معاوية) (١) بن هشام قال: حدثنا سفيان (عن) (٢) عبيد اللَّه ⦗٣٨١⦘ عن نافع عن ابن عمر قال: لم يقص زمان أبي بكر ولا عمر إنما كان القصص (زمن) (٣) الفتنة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے زمانے میں قصہ گوئی نہیں کی جاتی تھی یہ تو فتنے کے زمانے میں شروع ہوئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27871
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27871، ترقيم محمد عوامة 26714)
حدیث نمبر: 27872
٢٧٨٧٢ - حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن سعيد الجريري عن أبي عثمان قال: كتب (عامل) (١) (لعمر) (٢) بن الخطاب إليه أن هاهنا قومًا يجتمعون فيدعون للمسلمين وللأمير، (فكتب إليه عمر) (٣) (٤) أقبل وأقبل بهم معك، فأقبل، وقال عمر للبواب: أعد لي سوطًا، فلما دخلوا على عمر أقبل على أميرهم ضربًا بالسوط، فقال: (يا) (٥) (أمير المؤمنين) (٦): إنا لسنا أولئك الذين (تعني) (٧) أولئك قوم يأتون من قبل المشرق (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب کے کسی گورنر نے آپ کو خط لکھا کہ بیشک یہاں چند لوگ ہیں جو جمع ہوتے ہیں اور مسلمانوں اور امیر کے لیے دعا کرتے ہیں ۔ اس پر حضرت عمر نے ان کو خط کا جواب لکھا کہ آپ بھی آئیں اور اپنے ساتھ ان لوگوں کو بھی میرے پاس لائیں ، پس وہ آگئے ۔ حضرت عمر نے دربان سے کہا : میرے لیے کوڑا تیار کرو۔ پس جب وہ لوگ حضرت عمر پر داخل ہوئے تو آپ نے ان کے امیر کو ایک کوڑا مارا۔ اس پر اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! بیشک ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں، یہ تو وہ لوگ ہیں جو مشرق کی جانب سے آئے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27872
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27872، ترقيم محمد عوامة 26715)
حدیث نمبر: 27873
٢٧٨٧٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن أبي حصين عن أبي عبد الرحمن أن عليا رأى رجلًا يقص، (قال) (١): علمت الناسخ والمنسوخ؟ قال: لا، (قال) (٢): هلكت وأهلكت (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا جو وعظ و نصیحت کر رہا تھا آپ نے اس سے پوچھا کیا تجھے ناسخ اور منسوخ معلوم ہیں ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : تو خود بھی ہلاک ہوا اور تو نے دوسروں کو بھی ہلاک کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27873
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27873، ترقيم محمد عوامة 26716)
حدیث نمبر: 27874
٢٧٨٧٤ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن أبي سنان عن عبد اللَّه بن أبي الهذيل عن عبد اللَّه بن خباب قال: رآني أبي وأنا عند قاص، فلما (رجعت) (٢) أخذ (الهراوة) (٣) قال: قرن قد (طلع) (٤): (آالعمالقة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن خباب فرماتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے دیکھا کہ میں قصہ گو کے پاس ہوں۔ جب میں واپس لوٹا تو انہوں نے لاٹھی پکڑی اور فرمایا : یہ سینگ ہے جو عمالقہ کے ساتھ طلوع ہوا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27874
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27874، ترقيم محمد عوامة 26717)
حدیث نمبر: 27875
٢٧٨٧٥ - حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن أبيه قال: سمعت إبراهيم التيمي قال: إنما حملني على مجلسي هذا (أني) (١) رأيت (كأني) (٢) أقسم ريحانًا، (بين الناس) (٣)، (فذكرت) (٤) ذلك لإبراهيم (النخعي) (٥) فقال: إن الريحان له منظر، وطعمه مر.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم تیمی فرماتے ہیں کہ مجھے اس مجلس کے قائم کرنے پر اس بات نے ابھارا کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میں لوگوں کے درمیان ریحان تقسیم کر رہا ہوں ۔ پھر میں نے یہ خواب ابراہیم نخعی کے سامنے ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا : بیشک ریحان ہوتا خوبصورت ہے مگر اس کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27875
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27875، ترقيم محمد عوامة 26718)
حدیث نمبر: 27876
٢٧٨٧٦ - حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة قال: حدثني عقبة بن حريث قال: سمعت ابن عمر وجاء رجل قاص وجلس في مجلسه فقال ابن عمر: قم من مجلسنا، فأبى أن يقوم، فأرسل ابن عمر إلى صاحب (الشرط) (١): أقم القاص، فبعث إليه فأقامه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن حریث فرماتے ہیں کہ ایک قصہ گو شخص آیا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مجلس میں بیٹھ گیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ہماری مجلس سے اٹھ جا۔ تو اس نے کھڑے ہونے سے انکار کردیا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کو توال کی طرف پیغام بھیجا کہ اس قصہ گو کو اٹھاؤ۔ تو اس نے کسی کو بھیج کر اس کو اٹھوا دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27876
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27876، ترقيم محمد عوامة 26719)
حدیث نمبر: 27877
٢٧٨٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن عاصم عن أبي وائل عن علقمة قال: قيل له: (ألا) (١) تقص علينا؟ قال: إني أكره أن آمركم بما لا أفعل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ سے پوچھا گیا : کہ آپ ہمیں وعظ و نصیحت کیوں نہیں فرماتے ؟ آپ نے فرمایا کہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ میں تمہیں اس بات کا حکم دوں جو میں خود نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27877
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27877، ترقيم محمد عوامة 26720)
حدیث نمبر: 27878
٢٧٨٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن أبي سنان عن (ابن) (١) أبي الهذيل عن خباب قال: رأى ابنه عند قاص، فلما رجع أتزر وأخذ السوط وقال: أمع العمالقة هذا قرن قد طلع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی الھذیل فرماتے ہیں کہ حضرت ذباب نے اپنے بیٹے کو ایک قصہ گو کے پاس دیکھا جب وہ یہ گناہ کر کے لوٹا تو آپ نے کوڑا پکڑ ا اور فرمایا : کیا عمالقے کے ساتھ ہو ؟ ! یہ شیطان کا سینگ بھی طلوع ہوگیا !
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27878
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، وانظر: ما تقدم [١٢٧٨٧٤].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27878، ترقيم محمد عوامة 26721)
حدیث نمبر: 27879
٢٧٨٧٩ - حدثنا شريك عن إبراهيم عن مجاهد قال: دخل (قاص) (١) فجلس قريبًا من ابن عمر فقال له: قم فأبى أن يقوم، فأرسل إلى صاحب الشرط، فأرسل إليه شرطيًا فقام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ کوئی قصہ گو شخص آیا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قریب بیٹھ گیا۔ آپ نے اس سے فرمایا : اٹھ جاؤ تو اس نے اٹھنے سے انکار کردیا۔ آپ نے کو توال کی طرف قاصد بھیجا۔ تو اس نے سپاہی کو بھیج کر اسے اٹھا دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27879
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27879، ترقيم محمد عوامة 26722)
حدیث نمبر: 27880
٢٧٨٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن ابن عون عن ابن سيرين قال: بلغ عمر أن رجلًا يقص بالبصرة فكتب إليه: ﴿الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ (١) إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (٢) نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ﴾ (١) إلى آخر الآية، قال: فعرف الرجل فتركه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی کہ ایک آدمی بصرہ میں قصہ گوئی کے ذریعہ وعظ و نصیحت کرتا ہے ۔ پس آپ نے اس کو خط لکھا : الر، یہ واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا تاکہ تم سمجھ لو۔ ہم تم پر بہترین واقعات بیان کرتے ہیں۔ راوی فرماتے ہیں ، کہ وہ شخص سمجھ گیا اور اس نے قصہ گوئی چھوڑ دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27880
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27880، ترقيم محمد عوامة 26723)
حدیث نمبر: 27881
٢٧٨٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن (سليمان) (١) عن إسماعيل عن ⦗٣٨٤⦘ أكيل قال: قال إبراهيم: ما أحد ممن يذكر أرجى في نفسي أن يسلم منه، -يعني إبراهيم التيمي-، ولوددت أنه يسلم منه كفافا لا عليه ولا له.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ وعظ و نصیحت کرنے والا اگر برابری کا رتبہ بھی پالے تو غنیمت ہے یعنی نہ کچھ اس کے حق میں ہو اور نہ خلاف۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27881
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27881، ترقيم محمد عوامة 26724)
حدیث نمبر: 27882
٢٧٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن سلمة عن أبي الدرداء جار لسلمة قال: قلت لعائشة: (أو) (١) قال لها: رجل آتي القاص (يدعو) (٢) (لي) (٣)؟ فقالت: لأن تدعو لنفسك خير من أن يدعو لك (القاص) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں جو حضرت سلمہ کے پڑوسی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : یا آپ سے کسی شخص نے پوچھا : کیا میں قصہ گو کے پاس اس لیے آسکتا ہوں تاکہ وہ میرے لیے دعا کرے ؟ آپ نے فرمایا : تم خود اپنے لیے دعا کرو یہ بہتر ہے اس سے کہ تمہارے لیے قصہ گو دعا کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27882
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27882، ترقيم محمد عوامة 26725)
حدیث نمبر: 27883
٢٧٨٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع قال: لم يكن قاص في زمن النبي ﷺ ولا زمن أبي بكر ولا زمن عمر ولا (في) (١) زمن عثمان (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حضرت نافع نے ارشاد فرمایا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں کوئی قصہ گو نہیں تھا نہ ہی حضرت ابوبکر کے زمانے میں نہ حضرت عمر کے زمانے میں اور نہ ہی حـضرت عثمان کے زمانے میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27883
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، نافع تابعي، وأخرجه متصلًا من طريق ابن عمر: ابن حبان (٦٢٦١)، وابن ماجه (٣٧٥٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27883، ترقيم محمد عوامة 26726)
حدیث نمبر: 27884
٢٧٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب (١) حدثنا معاوية بن صالح قال: (حدثني) (٢) يحيى بن سعيد الكلاعي عن جبير بن نفير الحضرمي أن أم الدرداء بعثته إلى نوفل بن فلان وقاص معه، يقصان في المسجد، فقالت: قل لهما: ليتقيا اللَّه، (وتكون) (٣) موعظتهما للناس لأنفسهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبیر بن کثیر حضرمی فرماتے ہیں کہ حضرت ام الدرداء نے ان کو نوفل بن فلاں کی طرف بھیجا جو کسی خطیب کے ساتھ مسجد میں بیٹھ کر وعظ و نصیحت فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : ان دونوں سے کہو کہ تم دونوں اللہ سے ڈرو۔ اور چاہیے کہ تمہارا لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا اپنی ذات کے لیے ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27884
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27884، ترقيم محمد عوامة 26727)
حدیث نمبر: 27885
٢٧٨٨٥ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر (عن عبيد بن الحسن) (١) عن ابن معقل قال: كان رجل لا يزال يقص فقال: له ابن مسعود أنشر سلعتك على من يريدها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن حسن فرماتے ہیں کہ حضرت ابن معقل نے ارشاد فرمایا : کہ ایک آدمی ہمیشہ وعظ و نصیحت کرتا رہتا تھا۔ حضرت ابن مسعود نے اس سے فرمایا : تم اپنا سامان اس کے سامنے پھیلاؤ جو اس کا ارادہ رکھتا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27885
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27885، ترقيم محمد عوامة 26728)