٢٧٦٢٩ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: نهى رسول اللَّه وير عن نتف الشيب، (و) (١) قال: هو نور المؤمن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سفید بال اکھیڑنے سے منع کیا اور فرمایا : یہ مومن کا نور ہے۔
٢٧٦٣٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أيوب السختياني عن يوسف عن طلق ابن حبيب أن حجامًا أخذ من شارب النبي ﷺ فرأى شيبة في لحيته، فأهوى إليها، فأخذ النبي ﷺ بيده وقال: "من شاب شيبة في الإسلام كانت له نورًا يوم القيامة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلق بن حبیب فرماتے ہیں کہ حجام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مونچھ کو چھانٹا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی داڑھی میں ایک سفید بال دیکھا تو اس کو کاٹنا چاہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑلیا اور ارشاد فرمایا : جو شخص اسلام میں بوڑھا ہو تو قیامت کے دن اس کے لیے ایک نور ہوگا۔
٢٧٦٣١ - حدثنا ابن مهدي عن المثنى عن قتادة عن أنس أنه كان يكره نتف الشيب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس سفید بالوں کے اکھیڑنے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
٢٧٦٣٢ - حدثنا ابن مهدي عن هشام عن قتادة (١) عن سعيد بن جبير قال: عذب رجل في نتف (الشيب) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ارشاد فرمایا : سفید بال اکھیڑنے کی وجہ سے آدمی کو عذاب دیا جائے گا۔
٢٧٦٣٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (حميد) (١) الأعرج عن مجاهد قال: كان يقول: لا تنتفوا الشيب، فإنه نور يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید اعرج فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد فرمایا کرتے تھے کہ تم سفید بالوں کو مت اکھیڑو۔ بیشک یہ قیامت کے دن نور ہوگا۔
٢٧٦٣٤ - حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن أبي معشر عن إبراهيم أنه (كره) (١) نتف الشيب، ولم ير بقصه بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو معشر فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے سفید بال اکھیڑنے کو مکروہ قرار دیا اور اس کو کاٹنے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔