حدیث نمبر: 27608
٢٧٦٠٨ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي قلابة عن أبي المهلب عن عمران ابن حصين قال: بينا رسول اللَّه ﷺ في بعض أسفاره، وامرأة من الأنصار على ناقة، فضجرت فلعنتها، فسمع ذلك رسول اللَّه ﷺ فقال: "خذوا ما عليها ودعوها، ⦗٣٠٤⦘ فإنها ملعونة، قال عمران بن حصين: فكأني أراها تجول في السوق ما يعرض لها أحد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حصن فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سفر میں تھے اور انصار کی ایک عورت اونٹنی پر تھی کہ اس اونٹنی نے تنگ کیا تو اس عورت نے اونٹنی کو لعنت کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سنا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو کچھ اس پر ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑو ، بیشک یہ تو ملعونہ ہے ، حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں گویا کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ بازاروں میں چکر لگا رہی ہے اور کوئی بھی اس کو خریدنے کے لیے نہیں دیکھ رہا۔
حدیث نمبر: 27609
٢٧٦٠٩ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) سليمان التيمي عن أبي عثمان عن أبي (برزة) (٢) أن جارية بينما هي على بعير أو راحلةٍ عليها متاعٌ للقوم بين جبلين فتضايق بها الجبل، فأتى عليها رسول اللَّه ﷺ فلما (أبصرته) (٣) (جعلت) (٤) تقول: (حل) (٥) اللهم العنه، حل اللهم العنه، فقال رسول اللَّه ﷺ: "من صاحب الراحلة؟ لا يصحبنا بعير أو راحلة عليها لعنة من اللَّه" -أو كما قال (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ ہمارے درمیان ایک باندی تھی جو اونٹ یا کسی سواری پر سوار تھی اور اس اونٹ پر چند لوگوں کا سامان تھا جو دو پہاڑوں کے درمیان سے گزر رہا تھا، پس پہاڑنے اس کا راستہ تنگ کردیا۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس آئے۔ جب عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو اس نے اونٹ کو کہنا شروع کردیا، چل چل۔ اے اللہ ! اس پر لعنت فرما، چل چل۔ اے اللہ ! اس پر لعنت فرما۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس سواری کا مالک کون ہے ؟ ہمارے ساتھ وہ اونٹ یا سواری نہیں چلے گی جس پر اللہ کی لعنت ہو یا جیسا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
حدیث نمبر: 27610
٢٧٦١٠ - حدثنا شبابة قال: حدثنا ليث بن سعد عن محمد بن عجلان عن (أبيه) (١) عن أبي هريرة قال: بينما رسول اللَّه ﷺ يسير في ناس من أصحابه، إذ لعن رجل منهم بعيره، فقال رسول اللَّه ﷺ: "من لعن بعيره؟ " فقال: أنا يا رسول اللَّه (قال) (٢): "أخره عنا فقد أجبت" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ میں سے چند لوگوں کے درمیان سفر کر رہے تھے، کہ ان میں سے ایک آدمی نے اپنے اونٹ کو لعنت کی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کس نے اپنے اونٹ کو لعنت کی ؟ اس شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو ہمارے سے دور کردو ۔ تحقیق تمہاری دعا قبو ل ہوگئی ہے۔
حدیث نمبر: 27611
٢٧٦١١ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شمر عن يحيى بن وثاب عن عائشة أنها قرب إليها بعير (ا) (١) لتركبه، فالتوى عليها فلعنته، فقال رسول اللَّه ﷺ: "لا تركبيه فإنك (لعنتيه) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن وثاب فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریب ایک اونٹ کیا گیا تاکہ آپ اس پر سوار ہوجائیں پس اس اونٹ نے آپ پر سوار ہونا دشوار کردیا تو آپ نے اس پر لعنت کی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اس پر سوار مت ہو کیونکہ تم نے اس کو لعنت کی ہے۔
حدیث نمبر: 27612
٢٧٦١٢ - حدثنا عبد الأعلى عن الجويري عن أبي عثمان قال: بينما عمر يسير في أصحابه وفي القوم رجل يسير على بعير له من القوم يضعه حيث يشاء، فلا أدري بما التوى عليه فلعنه، فقال عمر: من هذا اللاعن؟ قالوا: فلان، قال: تخلف عنا أنت وبعيرك، لا تصحبنا (راحلة) (١) ملعونة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ حضرت عمر اپنے ساتھیوں میں سفر کر رہے تھے کہ لوگوں میں ایک شخص جو اپنے اونٹ پر سفر کر رہا تھا اور قوم میں سے جو چاہتا اس کو سامان رکھ دیتا ، میں نہیں جانتا کہ اس پر کیا دشواری آئی کہ اس نے اونٹ کو لعنت کی، اس پر حضرت عمر نے پوچھا : یہ لعنت کرنے والا کون شخص ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں شخص ہے۔ آپ نے فرمایا : تو اور تیرا اونٹ ہم سے دور ہوجائیں ہم کسی ملعون سواری کو اپنے ساتھ نہیں رکھیں گے۔