کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ذمیوں پر سلام کرنے کا بیان اور جو یوں کہے کہ ہم نشینی کا بھی کچھ حق ہے
حدیث نمبر: 27537
٢٧٥٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: أقبلت مع عبد اللَّه من (السايحين) (١) فصحبه دهاقين من أهل الحيرة، فلما دخلوا الكوفة أخذوا في (طريق) (٢) (غير) (٣) طريقهم، فالتفت إليهم فرآهم ⦗٢٨٧⦘ قد عدلوا فاتبعهم السلام، فقلت: (أتسلم) (٤) على هؤلاء الكفار؟ (فقال) (٥): نعم، (وإنهم) (٦) صحبوني وللصحبة حق (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ سلیحین مقام سے آ رہا تھا، کہ مقام حیرہ کے کچھ تاجر بھی آپ کے ساتھ ہو لیے، جب یہ لوگ کوفہ میں داخل ہوئے تو انہوں نے اس راستہ کو چھوڑ کر دوسرا راستہ پکڑ لیا تو آپ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ان کو دیکھا کہ وہ راستہ سے ہٹ گئے ہیں تو آپ نے ان کو سلام کیا، میں نے پوچھا : کیا آپ نے ان کافروں کو سلام کیا ؟ آپ نے فرمایا : بیشک ان لوگوں نے میرا ساتھ اختیار کیا اور ساتھی کا بھی کچھ حق ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27537
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27537، ترقيم محمد عوامة 26385)
حدیث نمبر: 27538
٢٧٥٣٨ - حدثنا حفص بن غياث عن عاصم عن حماد عن إبراهيم عن علقمة قال: ما زادهم (عبد) (١) اللَّه (على) (٢) الإشارة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے فرمایا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کو اشارے سے زیادہ کچھ نہیں کہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27538
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ حماد بن أبي سليمان ثقة عند رواية الأكابر عنه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27538، ترقيم محمد عوامة 26386)
حدیث نمبر: 27539
٢٧٥٣٩ - حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن (شعيب) (١) بن (الحبحاب) (٢) قال: كنت مع علي بن عبد اللَّه البارقي، فمر علينا يهودي (أو) (٣) نصراني عليه (كارة) (٤) من طعام، فسلم علبه عليٌ، فقال شعيب: فقلت: إنه يهودي أو نصراني، فقرأ على آخر سورة الزخرف: ﴿وَقِيلِهِ يَارَبِّ إِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا يُؤْمِنُونَ (٨٨) فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ﴾ [٨٨ - ٨٩].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعیب بن حبحاب فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بن عبد اللہ البارقی کے ساتھ تھا کہ ہمارے پاس سے ایک یہودی یا نصرانی گزرا جس کے پاس کھانے کا بوجھ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو سلام کیا۔ اس پر حضرت شعیب کہتے ہیں کہ میں نے فرمایا : یہ تو یہودی یا نصرانی ہے ! تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سورة زخرف کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : قسم ہے رسول کے اس کہے کی کہ اے رب یہ لوگ ہیں کہ یقین نہیں لاتے ، سو تو منہ پھیر لے ان کی طرف سے اور کہہ سلام ہے۔ اب آخر کو وہ معلوم کرلیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27539
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27539، ترقيم محمد عوامة 26387)
حدیث نمبر: 27540
٢٧٥٤٠ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان قال: حدثنا (معمر) (١) قال: بلغني أن أبا هريرة مر على يهودي فسلم (٢)، فقيل له إنه يهودي، فقال: يا ⦗٢٨٨⦘ يهودي رد على سلامي وأدعو لك، قال: قد رددته، (قال) (٣): اللهم (كثر) (٤) ماله وولده (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی کہ حضرت ابوہریرہ ایک یہودی کے پاس سے گزرے اور اس کو سلام کیا۔ آپ کو بتلایا گیا : یہ تو یہودی ہے ! آپ نے فرمایا : اے یہودی مجھے میرا سلام لوٹا دو اور میں تمہارے لیے دعا کرتا ہوں۔ اس یہودی نے کہا کہ تحقیق میں نے اس کو لوٹا دیا۔ آپ نے یوں دعا فرمائی۔ اے اللہ ! اس کے مال اور اولاد کو بڑھا دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27540
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27540، ترقيم محمد عوامة 26388)