کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ذمیوں کو سلام کا جواب دینے کا بیان
حدیث نمبر: 27419
٢٧٤١٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (مسلم) (١) عن مسروق عن عائشة أنه أتى النبي ﷺ ناسٌ من اليهود (فقالوا) (٢): السام عليك يا أبا القاسم، فقال: "وعليكم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یہود کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے یوں کہا : السام علیک۔ تم پر موت طاری ہو۔ اے ابو القاسم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں پر بھی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27419
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٢٧)، ومسلم (٢١٦٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27419، ترقيم محمد عوامة 26273)
حدیث نمبر: 27420
٢٧٤٢٠ - حدثنا عبدة بن سليمان ومحمد بن بشر عن (سعيد) (١) عن قتادة عن أنس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا سلم عليكم أحد من أهل الكتاب فقولوا: وعليكم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب اہل کتاب میں سے تمہیں کوئی سلام کرے تو تم یوں جواب دو ۔ وعلیکم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27420
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٢٥٨)، ومسلم (٢١٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27420، ترقيم محمد عوامة 26274)
حدیث نمبر: 27421
٢٧٤٢١ - حدثنا ابن نمير عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن أبي حبيب عن (مرثد) (١) بن عبد اللَّه عن أبي عبد الرحمن الجهني قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إني راكب غدا إلى (يهود) (٢) فلا تبدؤوهم بالسلام، (وإذا) (٣) سلموا عليكم فقولوا: وعليكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن الجھنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک کل میں یہود کے پاس جاؤں گا، تو تم لوگ سلام میں پہل مت کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم یوں کہنا۔ وعلیکم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27421
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ابن إسحاق صدوق صرح بالتحديث عند أحمد، لكن اختلف ابن إسحاق فيه، فمرة جعله من حديث أبي عبد الرحمن، ومرة من حديث أبي بصرة الغفاري، أخرجه أحمد (١٧٢٩٥)، وابن ماجه (٣٦٩٩)، وابن سعد ٤/ ٣٥٠، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٥٧٧)، وأبو يعلى (٩٣٦)، والطبراني ٢٢/ (٧٤٣)، وابن الأثير ٦/ ١٩٧، والمزي ٣٤/ ٤٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27421، ترقيم محمد عوامة 26275)
حدیث نمبر: 27422
٢٧٤٢٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن دينار عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إن اليهود إذا لقوكم (وقالوا) (١): السام عليكم، فقولوا (لهم) (٢): وعليكم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک یہودی جب بھی تم سے ملیں اور السام علیکم کہیں تو تم یوں جواب دو ۔ وعلیکم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27422
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٢٨)، ومسلم (٢١٦٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27422، ترقيم محمد عوامة 26276)
حدیث نمبر: 27423
٢٧٤٢٣ - حدثنا أبو أسامة ووكيع عن ابن عون عن حميد بن (زاذويه) (١) عن أنس قال: نهينا أو أمرنا أن لا (نزيد) (٢) أهل الكتاب على: وعليكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن زادویہ فرماتے ہیں کہ حضرت انس نے ارشاد فرمایا : ہمیں منع کیا گیا یا ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم اہل کتاب کو سلام کا جواب دینے میں علیکم پر کچھ بھی اضافہ نہ کریں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27423
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27423، ترقيم محمد عوامة 26277)
حدیث نمبر: 27424
٢٧٤٢٤ - حدثنا وكيع عن عبد الحميد بن جعفر عن يزيد بن أبي حبيب (١) عن أبي (بصرة) (٢) الغفاري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "إنا غادون إلى (يهود) (٣) فلا (تبدؤوهم) (٤) بالسلام، (فإن) (٥) سلموا (عليكم) (٦) ⦗٢٦٠⦘ فقولوا: وعليكم" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بصرہ الغفاری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک ہم کل یہود کے پاس جائیں گے تو تم لوگ ان سے سلام میں پہل مت کرنا ، پس اگر وہ تمہیں سلام کریں تو یوں جواب دینا۔ وعلیکم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27424
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27424، ترقيم محمد عوامة 26278)
حدیث نمبر: 27425
٢٧٤٢٥ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: من سلم عليكم من خلق اللَّه فردوا عليهم وإن كان يهوديًا أو نصرانيًا أو مجوسيًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اللہ کی مخلوق میں سے جو کوئی بھی تم کو سلام کرے تو تم اس کو سلام کا جواب دو اگرچہ وہ یہودی ہو یا نصرانی ہو یا مجوسی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27425
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب؛ رواية سماك عن عكرمة مضطربة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27425، ترقيم محمد عوامة 26279)
حدیث نمبر: 27426
٢٧٤٢٦ - حدثنا (ابن) (١) فضيل عن معن عن إبراهيم قال: إذا سلم عليكم الرجل من أهل الكتاب فقل: وعليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معن فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب اہل کتاب میں سے کوئی آدمی تمہیں سلام کرے تو تم اس کو یوں جواب دو ۔ وعلیک۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27426
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27426، ترقيم محمد عوامة 26280)
حدیث نمبر: 27427
٢٧٤٢٧ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن زهير عن جابر عن عامر قال: إذا سلم عليكم يهودي أو نصراني فقولوا: وعليكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : جب کوئی یہودی یا نصرانی تمہیں سلام کرے تو تم یوں جواب دو ۔ وعلیکم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27427
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27427، ترقيم محمد عوامة 26281)
حدیث نمبر: 27428
٢٧٤٢٨ - حدثنا يحيى بن (سليم) (١) عن زمعة (عن سلمة) (٢) بن وهرام عن طاوس قال: كان إذا سلم عليه اليهودي والنصراني قال: (علاك) (٣) السلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن وھرام فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس کو جب کوئی یہودی اور عیسائی سلام کرتا تو آپ یوں جواب دیتے، علاک السلام (ترجمہ :) تجھ پر سلام بلند ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأدب / حدیث: 27428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 27428، ترقيم محمد عوامة 26282)