حدیث نمبر: 27415
٢٧٤١٥ - حدثنا عبد اللَّه بن (بكر) (١) السهمي عن حاتم بن أبي صغيرة عن عطية وكان كاتبًا لعبد اللَّه بن مطرف بن الشخير قال: سمعت عبد اللَّه بن مطرف بن الشخير يقول: ما على (٢) الأرض رجل يبدأ (آخر) (٣) بالسلام إلا كان ذلك صدقة عليه إلى يوم القيامة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطیہ جو حضرت عبد اللہ بن مطرف بن الشخیر کے کاتب ہیں فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن مطرف بن الشخیر کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا : نہیں ہے زمین پر کوئی شخص جو سلام میں پہل کرے مگر یہ قیامت کے دن اس شخص کے لیے صدقہ بن جائے گا۔
حدیث نمبر: 27416
٢٧٤١٦ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد اللَّه قال: إن الرجل إذا مر بالقوم فسلم عليهم فردوا عليه كان له فضل درجة عليهم؛ لأنه أذكرهم السلام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وھب فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی قوم پر گزرا اور اس نے ان کو سلام کیا پھر ان لوگوں نے اس کو سلام کا جواب دیا تو اس شخص کو ان لوگوں پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہوگی اس لیے کہ اس نے ان کو سلام یا د دلایا ہے۔
حدیث نمبر: 27417
٢٧٤١٧ - حدثنا وكيع عن المسعودي عن علي بن الأقمر عن أبي عاصم قال: قال عبد اللَّه: البادئ بالسلام يربى على صاحبه في الأجر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : سلام میں پہل کرنے والا اپنے ساتھی سے اجر میں بڑھا ہوا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 27418
٢٧٤١٨ - حدثنا وكيع عن (ابن) (١) عون عن الشعبي عن شريح قال: ما التقى رجلان قط إلا كان أولاهما باللَّه الذي يبدأ بالسلام.
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے ارشاد فرمایا : کبھی بھی دو مسلمان آپس میں ملاقات نہیں کرتے مگر ان دونوں میں اللہ کے قریب وہ شخص ہوگا جو سلام میں پہل کرے۔