٢٧٤٠٧ - حدثنا وكيع عن (سفيان) (١) عن (عمار) (٢) (الدهني) (٣) عن ⦗٢٥٥⦘ رجل عن كريب عن ابن عباس أنه كتب إلى رجل من أهل الكتاب: السلام عليك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کریب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اہل کتاب میں سے ایک آدمی کو خط لکھا : تو اس میں اس کو سلام لکھا : السلام علیک۔
٢٧٤٠٨ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إذا كتبت إلى اليهودي والنصراني في الحاجة (فابدأ) (١) بالسلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی کسی یہودی اور نصرانی کو کسی ضرورت کے بارے میں خط لکھے تو اس کو چاہیے کہ یہ سلام میں پہل کرے اور حضرت مجاہد نے فرمایا : یوں سلام لکھیں، والسَّلاَمُ عَلَی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدَی۔
٢٧٤١٠ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا المسعودي عن عون بن عبد اللَّه قال: سأل محمد بن كعب عمر بن عبد العزيز عن ابتداء أهل الذمة بالسلام فقال: (نرد) (١) عليهم ولا (نبدؤهم) (٢)، فقلت: وكيف تقول أنت؟ قال: ما أرى بأسًا أن (نبدأهم) (٣)، (قلت) (٤): لم؟ قال: لقول اللَّه (٥): ﴿(فَاصْفَحْ) (٦) عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ (يَعْلَمُونَ) (٧)﴾ [الزخرف: ٨٩].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عون بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت محمد بن کعب نے حضرت عمر بن عبد العزیز سے ذمیوں کو سلام کرنے میں پہل کرنے کے بارے میں پوچھا ؟ آپ نے فرمایا : ان کو سلام کا جواب دیا جائے گا اور تم ان پر سلام میں پہل نہ کرو۔ میں نے پوچھا : آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم بھی ان پر سلام میں پہل کرو۔ میں نے پوچھا : کیوں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ رب العزت کے اس قول کی وجہ سے۔ ترجمہ : تم ان سے درگزر کرو اور یوں کہو : سلام، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔
٢٧٤١١ - (١) حدثنا إسماعيل بن عياش عن محمد بن زياد الألهاني وشرحبيل ⦗٢٥٦⦘ ابن مسلم عن أبي أمامة أنه كان لا يمر بمسلم ولا يهودي ولا نصراني إلا بدأه بالسلام (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن زیاد الالھانی اور حضرت شرحبیل بن مسلم یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت ابو امامہ کسی مسلمان، یہودی اور نصرانی کے پاس سے نہیں گزرتے تھے مگر یہ کہ آپ سلام میں پہل کرتے تھے۔
٢٧٤١٢ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن ابن عجلان أن عبد اللَّه وأبا الدرداء وفضالة بن (عبيد) (١) كانوا يبدأون أهل الشرك بالسلام (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عجلان فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ، حضرت ابو الدرداء اور حضرت فضالہ بن عبید یہ سب حضرات مشرکین سے سلام کرنے میں پہل کرتے تھے۔
٢٧٤١٣ - حدثنا يحيى بن يمان عن ابن عجلان عن أبي عيسى قال: قال عبد اللَّه: إن من رأس التواضع أن (تبدأ) (١) بالسلام من لقيت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یقینا عاجزی کی بنیاد کی یہ بات ہے کہ جب تم کسی سے ملو تو سلام میں ابتداء کرو۔
٢٧٤١٤ - حدثنا (عفان) (١) قال: حدثنا (عبد الواحد) (٢) بن زياد قال: حدثنا عاصم عن الشعبي قال: كتب أبو بردة إلى رجل من أهل الذمة يسلم عليه، فقيل له: لم قلت له؟ فقال: إنه بدأني بالسلام.
مولانا محمد اویس سرور
امام شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بردہ نے ایک ذمی کی طر ف خط لکھا اور اس کو سلام کہا، ان سے اس بارے میں پوچھا گیا : کہ آپ نے اسے سلام کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا : بیشک اس نے سلام میں ابتداء کی تھی۔