کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: علم نجوم کی تعلیم کا بیان بعض لوگوں نے اس بارے میں کیا فرمایا؟
٢٧٣٠٣ - حدثنا يحيى بن سعيد عن عبيد اللَّه بن الأخنس عن الوليد بن عبد اللَّه عن يوسف بن ماهك عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من اقتبس علمًا من النجوم اقتبس شعبة من السحر، زاد ما زاد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے ستاروں کا علم سیکھا تو اس نے جادوگری کا ایک شعبہ سیکھ لیا، جتنا وہ بڑھے گا جادوگری بھی بڑھ جائے گی۔
٢٧٣٠٤ - حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: لا بأس أن يتعلم من النجوم والقمر ما يهتدي به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : کوئی حرج نہیں ہے علم نجوم اور چاند کا علم سیکھنے میں جو اس کے ذریعہ راستہ معلوم کرے۔
٢٧٣٠٥ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني يحيى بن أيوب قال: حدثنا عبد اللَّه ابن طاوس عن أبيه عن ابن عباس قال: (١) ينظرون في النجوم وفي حروف أبي جاد قال: أرى أولئك (قومًا) (٢) لا خلاق لهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ ستاروں اور حروف ابجد میں غور و فکر کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : میری رائے ہے کہ ان لوگوں کا آخر ت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔
٢٧٣٠٦ - حدثنا غسان بن مضر عن سعيد بن يزيد عن أبي نضرة قال: قال ⦗٢٢٦⦘ عمر: تعلموا من هذه النجوم ما (تهتدون) (١) به في ظلمة البر والبحر ثم أمسكوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ان ستاروں کا علم سیکھو اور اس کے ذریعہ سمندر اور زمین کے اندھیروں میں راستہ معلوم کیا کرو پھر تم رک جاؤ۔