٢٦٥١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن ابن عون عن ابن سيرين قال: كانوا لا يرون بأسًا بصوف الميتة وشعر الوبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے لوگ مردار کی اون اور اونٹ کے بالوں میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔
٢٦٥١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عبد الخالق عن حماد في صوف الميتة إذا غسل فهو ذكاته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الخالق ، حضرت حماد سے مردار کی اون کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ اس کو جب دھویا جائے تو یہی اس کی پاکی ہے۔
٢٦٥١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن الحسن ومحمد أنهما كانا لا يريان بأسًا بصوف الميتة أن ينتفع به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام ، حسن اور محمد کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ یہ دونوں حضرات مردار کی اون سے نفع حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔ اور حسن فرماتے ہیں۔ اس کو دھویا جائے گا۔
٢٦٥١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد (١) قال: أنبأنا ابن عون عن محمد قال: كانوا لا يرون بالصوف والشعر والمرعز (أو) (٢) الوبر بأسًا، إنما كانوا يكرهون الصلاة في الجلد.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے کہ پہلے حضرات اون ، بال ، بھیڑ کے بالوں کے نیچے والے رواں اور اونٹ کے بالوں میں کوئی حرج نہیں دیکھتے تھے۔ وہ صرف چمڑے میں نماز کو مکروہ سمجھتے تھے۔
٢٦٥١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن عمران القطان عن حماد عن إبراهيم في (الريش) (١) والعقب والصوف والعظام من الميتة قال: إذا غسل فهو طهوره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد، ابراہیم سے مردار کے بال، پٹھے، اون اور ہڈیوں کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا : جب ان کو دھویا جائے تو یہی ان کی طہارت ہے۔
٢٦٥١٦ - (حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) (هشيم)) (٢) (٣) عن مغيرة عن الشعبي أن بنات حسين بن علي كن يلبسن القميص، فإذا بلغن وتزوجن (يلبسن) (٤) الدروع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی بیٹیاں (خالی) قمیص پہنا کرتی تھیں۔ پھر جب وہ بالغ اور شادی شدہ ہوگئیں تو پھر وہ عورتوں کی کُرتی (بھی) پہنا کرتی تھیں۔
٢٦٥١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن حماد قال: لا بأس (بريش) (١) الميتة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مردار کے بالوں (کے استعمال میں) کوئی حرج نہیں ہے۔