٢٦٣٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم عن علقمة (عن ابن مسعود) (١) أنه سئل عن الحرير والذهب للنساء (فقال) (٢): إنما هن لعبكم فزينوهن بما شئتم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ، حضرت ابن مسعود کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ ان سے عورتوں کے (استعمال کے لئے) سونے اور ریشم کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو انہوں نے جواب میں فرمایا : عورتیں تمہاری کھیل ہیں پس تم جس چیز سے چاہو ان کو مزین کرو۔
٢٦٣٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن علقمة بن مرثد عن مجاهد قال: (رخص) (١) للنساء في الحرير والذهب ثم قرأ: ﴿أَوَمَنْ يُنَشَّأُ فِي (الْحِلْيَةِ) (٢) وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ﴾ [الزخرف: ١٨] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ عورتوں کو ریشم اور سونے (کے استعمال) میں اجازت دی گئی ہے، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : (أَوَمَنْ یُنَشَّأُ فِی الْحِلْیَۃِ وَہُوَ فِی الْخِصَامِ غَیْرُ مُبِینٍ )
٢٦٣٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) وكيع قال: حدثنا مسعر عن (أبي) (٢) عون عن أبي صالح (الحنفي) (٣) عن علي أن أكيدر دومة أهدى إلى النبي ﷺ ثوب حرير فأعطاه عليًا، فقال: " (شقه) (٤) خمرًا بين النسوة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اکیدر دومہ نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ریشم کا کپڑا ہدیہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کپڑا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا اور فرمایا : ” تم اس کو عورتوں کے درمیان تقسیم کردو۔ “
٢٦٣٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد الرحيم) (١) عن عبيد اللَّه عن نافع عن سعيد بن أبي (هند) (٢) عن أبي موسى قال: قال رسول اللَّه ﷺ في الحرير والذهب: "حرام على ذكور أمتي حل لإناثهم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ریشم اور سونے کے بارے میں ارشاد فرمایا : ” میری امت کے مردوں پر حرام ہیں اور ان کی عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ “
٢٦٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن معمر أخبره عن الزهري عن أنس قال: رأيت على زينب بنت رسول اللَّه ﷺ قميص حرير سيراء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زینب بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خالص ریشم کی قمیص دیکھی۔
٢٦٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا معقل بن عبيد اللَّه عن ميمون بن مهران قال: لا بأس بالحرير والديباج للنساء، إنما يكره لهن ما يصف أو يشف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عورتوں کے لئے دیباج اور ریشم میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان کے لئے صرف وہ کپڑا مکروہ ہے جو (اعضاء کو پاک کرے یا باریک ہو۔ (بہت زیادہ) ۔
٢٦٤٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: إني لأكسو بناتي الحرير (وأحليهن) (١) (بالذهب) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ میں اپنی بیٹیوں کو ریشم پہناتا ہوں اور میں ان کو سونے کا زیور پہناتا ہوں۔