کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: صدقہ کے پانی میں سے پینے کے بارے میں
حدیث نمبر: 25807
٢٥٨٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أزهر عن ابن عون عن محمد قال: لا بأس بشرب الماء الذي يوضع للصدقة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو پانی صدقہ کے لئے رکھا گیا ہو اس کو پینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25807
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25807، ترقيم محمد عوامة 24710)
حدیث نمبر: 25808
٢٥٨٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خالد بن مخلد قال: حدثنا عبد اللَّه بن جعفر عن أم بكر ابنة المسور قالت: كان المسور لا يشرب من الماء الذي يوضع في المسجد، ويكرهه ويرى أنه صدقة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام بکر بنت مسور سے روایت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ حضرت مسور اس پانی میں سے نہیں پیتے تھے جو مسجد میں رکھا جاتا تھا اور اس کو ناپسند کرتے تھے۔ اور ان کی رائے یہ تھی کہ یہ صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25808
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25808، ترقيم محمد عوامة 24711)
حدیث نمبر: 25809
٢٥٨٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يونس عن الحسن قال: قال: سعد بن عبادة: يا رسول اللَّه مرني بصدقة قال: "اسق الماء" قال: فنصبت (سقاءين) (١) فلم يزالا منصوبين ربما سعيت بينهما وأنا غلام (٢). (تم كتاب الأشربة) (٣)
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ مجھے صدقہ کا حکم دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم پانی پلاؤ۔ “ راوی کہتے ہیں ۔ چناچہ انہوں نے دو مشکیں نصب کروا دیں۔ وہ نصب ہی تھیں اور میں اپنے بچپن میں ان دونوں کے درمیان دوڑا کرتا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25809
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25809، ترقيم محمد عوامة 24712)