٢٥٨١٠ - حدثنا (أبو) (١) عبد الرحمن (بقي) (٢) بن مخلد قال: حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال] (٣): حدثنا زيد بن الحباب العكلي عن حسين بن واقد عن (ابن) (٤) (٥) بريدة عن أبيه قال: عق رسول اللَّه ﷺ عن الحسن والحسين (٦).
٢٥٨١١ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): (حدثنا شبابة) (٢) قال: حدثنا مغيرة بن مسلم عن أبي الزبير عن جابر قال: عق رسول اللَّه ﷺ عن الحسن والحسين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن اور حضرت حسین کی طرف سے عقیقہ کیا۔
٢٥٨١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد ويعلى بن عبيد عن يحيى بن سعيد ⦗٣٦٠⦘ عن عكرمة قال: عق عن الحسن والحسين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت حسن اور حضرت حسین کا عقیقہ کیا گیا تھا۔
٢٥٨١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق عن عبد اللَّه بن أبي بكر عن محمد بن علي بن (حسين) (١) (عن علي) (٢) قال: عق رسول اللَّه ﷺ عن الحسن بشاة فقال: "يا فاطمة! إحلقي رأسه، وتصدقي بزنة شعره (فضة) (٣) " فوزنوه فكان وزنه درهما أو بعض درهم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن کی طرف سے ایک بکری عقیقہ میں ذبح فرمائی۔ اور ارشاد فرمایا۔ ” اے فاطمہ ! اس کے سر کو حلق کردو اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر صدقہ کرد و۔ “ چناچہ ان لوگوں نے بالوں کا وزن کیا۔ تو اس کا وزن درہم یا کچھ درہم تھا۔
٢٥٨١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن شريك عن ابن (عقيل) (١) عن علي بن الحسين عن أبي رافع قال: قالت فاطمة: يا رسول اللَّه ألا (أعق) (٢) عن ابني دما، قال: "لا (٣)، (احلقي) (٤) رأسه وتصدقي بوزنه على ⦗٣٦١⦘ المساكين أواق من ورق أو فضة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت ابو رافع سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ نے سوال کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا میں اپنے بیٹے کی طرف سے عقیقہ میں خون نہ بہاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ تم اس کے سر کو حلق کردو۔ “ اور اس کے بالوں کے برابر وزن ڈھلی یا غیر ڈھلی چاندی کو مساکین پر صدقہ کردو۔ “
٢٥٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن محمد قال: لو أعلم أنه لم يعق عني لعققت عن نفسي.
مولانا محمد اویس سرور
محمد سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر مجھے یہ بات معلوم ہوجائے کہ میرا عقیقہ نہیں کیا گیا تو میں اپنا عقیقہ کروں گا۔
٢٥٨١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن فضيل) (١) عن يحيى بن سعيد عن محمد ابن إبراهيم قال: كان يؤمر بالعقيقة، ولو بعصفور.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابراہیم سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عقیقہ کا حکم دیا جائے گا اگرچہ چڑیا کے ذریعہ ہی عقیقہ کیا جائے۔
٢٥٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر عن سعيد عن قتادة عن الحسن عن سمرة عن رسول اللَّه ﷺ قال: "الغلام (رهينة) (١) (بعقيقته) (٢) (تذبح عنه) " (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بچہ اپنے اس عقیقہ کا مرہون ہوتا ہے جو اس کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے۔
٢٥٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن هشام عن حفصة ابنة سيرين ⦗٣٦٢⦘ عن سلمان (بن) (١) عامر أنه سمع رسول اللَّه ﷺ يقول: "إن مع الغلام (عقيقة) (٢) (فأريقوا) (٣) عنه دما وأميطوا عنه الأذى" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان بن عامر سے روایت ہے کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہتے سُنا : ” یقینا بچہ کے ساتھ عقیقہ ہوتا ہے۔ پس تم اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے اذیت کو دور ہٹاؤ۔ “
٢٥٨١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن زيد بن أسلم عن رجل من بني ضمرة عن أبيه قال: سئل رسول اللَّه ﷺ عن العقيقة (فقال) (١): "لا يحب اللَّه العقوق، من وُلد له منكم ولدٌ فأحب أن ينسك عنه فليفعل" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
بنو ضمرہ کے ایک آدمی ، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ (باپ اور ماں کی) نافرمانی کرنے کو پسند نہیں کرتا۔ تم میں سے جس کا بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے خون بہانا چاہے تو ضرور بہائے۔ “