حدیث نمبر: 25767
٢٥٧٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن الشيباني عن غيلان ابن يزيد قال: دعي أبو عبيدة إلى وليمة، فأتي بشراب، فناول من (على) (١) يمينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غیلان بن یزید سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ کو ایک ولیمہ میں مدعو کیا گیا۔ تو ان کے پاس مشروب حاضر کیا گیا۔ پس آپ نے وہ مشروب اپنے دائیں جانب والے کو دے دیا۔
حدیث نمبر: 25768
٢٥٧٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: أخبرني شعبة عن عمارة بن أبي حفصة عن عكرمة قال: أتي عمر بشراب وهو بالموقف عشية عرفة، فشرب ثم ناول سيد أهل اليمن وهو عن يمينه، قال: إني صائم، قال: عزمت عليك إلا أفطرت وأمرت أصحابك (أن يفطروا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک مشروب لایا گیا جبکہ آپ عرفہ کی رات کو موقف میں تھے۔ پس آپ نے وہ مشروب پیا پھر آپ نے وہ مشروب اہل یمن کے سردار کو دے دیا اور یہ آپ کے دائیں جانب تھے۔ اس سردار نے کہا۔ میں روزہ دار ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم خود بھی روزہ توڑو اور اپنے ساتھیوں کو بھی حکم دو کہ وہ روزہ افطار کریں۔
حدیث نمبر: 25769
٢٥٧٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري سمعه من أنس قال: قدم النبي ﷺ (المدينة) (١) وأنا ابن عشر، وتوفي ﷺ وأنا ابن عشرين، وكن أمهاتي ⦗٣٤٨⦘ يحثثنني على خدمته، فدخل علينا دارنا فحلبنا له من شاة داجن لنا، وشيب له من بئر في الدار، وأبو بكر عن شماله وأعرابي عن يمينه، وكان عمر ناحية، فقال عمر: يا رسول اللَّه! أعط أبا بكر، فأعطى الأعرابي وقال: الأيمن فالأيمن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس کو کہتے سُنا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا۔ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا۔ اور میری مائیں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس ہمارے گھر میں تشریف لائے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اپنی ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں اپنے گھر کے کنویں کے پانی کی آمیزش کی۔ حضرت ابوبکر ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف تھے اور ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں طرف تھا۔ اور حضرت عمر ، ایک طرف تھے۔ چناچہ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! حضرت ابوبکر کو دے دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہاتی کو دے دیا اور ارشاد فرمایا ” دائیں طرف والا، پھر دائیں طرف والا، “ (یعنی یہ حق دار ہے۔ )