کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو لوگ کھڑے ہونے کی حالت میں کچھ پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں
٢٥٦٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام الدستوائي عن قتادة عن أبي عيسى الأسواري عن أبي سعيد الخدري قال: زجر رسول اللَّه ﷺ رجلا شرب قائما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کو زجر فرمایا جس نے کھڑے ہو کر پیا تھا۔
٢٥٦٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام (الدستوائي) (١) عن قتادة عن أنس بن مالك قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الشرب قائما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پینے سے منع فرمایا۔
٢٥٦٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر عن معمر عن قتادة عن أنس أنه سأله عن الشرب قائما فكرهه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ، حضرت انس کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس سے کھڑے ہونے کی حالت میں پینے کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے اس کو ناپسند سمجھا۔
٢٥٦٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن منصور عن الحسن أنه كان يكره الشرب قائما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور، حسن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ وہ کھڑے ہونے کی حالت میں پانی پینے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
٢٥٦٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان (عن منصور) (١) (عن إبراهيم) (٢) قال: إنما (كره) (٣) الشرب قائما لداء يأخذ البطن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ کھڑے ہو کر پینا صرف اس وجہ سے مکروہ ہے کہ اس کی وجہ سے پیٹ میں بیماری ہوجاتی ہے۔