کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: پانی کو مشکیزہ میں رکھنے کا بیان اور یہ بات کہ کس وقت اس کو بہایا جائے گا
حدیث نمبر: 25275
٢٥٢٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) عاصم بن سليمان عن أبي عثمان النهدي أن رسول اللَّه ﷺ غزا بأصحابه، فمر قوم (مسغبون) (٢) -يعني جياعًا- بشجرة خضراء، فأكلوا منها، فكأنما مرت بهم ريح فأخمدتهم، فقال: رسول اللَّه ﷺ: " (قرسوا) (٣) الماء في الشنان، ثم (صبوه) (٤) عليكم فيما بين الأذانين من الصبح، واحدروا الماء حدرا، واذكروا اسم اللَّه ⦗٢١٥⦘ (عليه) (٥) "، ففعلوا ذلك، فكأنما نشطوا من (عقال) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان نہدی سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ہمراہ ایک غزوہ کا سفر کیا۔ اس دوران کچھ لوگ بھوک کی حالت میں ایک سرسبز درخت کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس درخت کو کھانا شروع کیا۔ پس یوں محسوس ہوا کہ ان پر کوئی ہوا آئی اور انہیں بجھا ہوا کرگئی ہے۔ اس پر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چھوٹے مشکیزے میں پانی کو ٹھنڈا کرو اور پھر صبح کی دو اذانوں کے درمیان تم اس پانی کو اپنے اوپر بہا ڈالو اور پانی کو اور اللہ کا نام یاد کرو۔ ‘ ‘ چناچہ صحابہ کرام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ عمل کیا تو (اس کا اثر یہ ہوا کہ) گویا وہ لوگ بندھن سے کھول دئیے گئے ہیں۔