٢٥٢٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) سفيان عن ابن أبي نجيح (عن مجاهد) (٢) قال: ماء زمزم شفاء لما شرب له (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ آب زم زم، ہر اس چیز کے لئے شفاء ہے جس کے لئے اس کو پیا جائے۔
٢٥٢٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مغيرة بن زياد عن عطاء (في) (١) ماء زمزم يُخرج به من الحرم، فقال: انتقل كعب (بثنتي) (٢) عشرة (راوية) (٣) إلى ⦗٢١٤⦘ الشام (يستشفون) (٤) بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے آب زم زم کو حرم سے باہر لے جانے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا : کعب نے بارہ عدد راویۃً کو شام کی طرف بھیجا اور وہ اس کے ذریعہ شفاء حاصل کرتے ہیں۔
٢٥٢٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سعيد بن زكريا وزيد بن حباب عن عبد اللَّه ابن المؤمل عن أبي الزبير عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ماء زمزم لما شرب له" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ” آب زم زم ہر اس مقصد کو پورا کرتا ہے۔ جس کے لیے اس کو پیا جائے۔ “