کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو لوگ دھوپ کو ناپسند کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ بیماری ہے
حدیث نمبر: 25268
٢٥٢٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن عبد الملك بن عمير (قال) (١): قال الحارث بن كلدة، وكان طبيب العرب: أكره الشمس (لثلاث) (٢): (تتفل) (٣) الريح، وتبلي الثوب، وتخرج الداء الدفين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن عمیر سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حارث بن کلدہ جو کہ پر عرب کے طبیب تھے۔ کہتے ہیں۔ میں سورج کو تین وجہ سے ناپسند کرتا ہوں۔ ہوا کو بوجھل کردیتا ہے۔ کپڑے کو پرانا کردیتا ہے۔ اور دبی ہوئی بیماری کو باہر نکال دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 25269
٢٥٢٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (عن) (١) ثور عن محفوظ (بن) (٢) علقمة أن النبي ﷺ رأى رجلًا في الشمس، فقال: "تحول إلى الظل فإنه مبارك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محفوظ بن علقمہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دھوپ میں (کھڑے) دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم سایہ کی طرف چلے جاؤ۔ پس بلاشبہ وہ بابرکت چیز ہے۔ “
حدیث نمبر: 25270
٢٥٢٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس وأبوأسامة عن إسماعيل (عن) (١) قيس (٢) قال: جاء (٣) والنبي ﷺ (٤) يخطب، فقام بين يديه في الشمس، ⦗٢١٣⦘ فأمر به، فحول إلى الظل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میرے والد اس حالت میں تشریف لائے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ اور (آ کر) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے دھوپ میں کھڑے ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو وہ سایہ کی طرف چل دئیے۔
حدیث نمبر: 25271
٢٥٢٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو) (١) معاوية عن الأعمش عن (شمر) (٢) قال: قال عمر: استقبلوا الشمس بجباهكم، (فإنها) (٣) حمام العرب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سمرہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : ” دھوپ کی طرف اپنی پیشانیوں کو کرو۔ کیونکہ یہ عرب کا حمام ہے۔