کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مریض کے لئے پرہیز کا بیان
حدیث نمبر: 25214
٢٥٢١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (رزام) (١) بن سعيد عن أبي (المعارك) (٢) عن ابن عمر قال: لا يمنعن أحدكم (مريضه) (٣) طعامًا يشتهيه، لعل اللَّه أن يشفيه، فإن اللَّه يجعل شفاءه حيث شاء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ تم میں کوئی مریض کو وہ کھانا کھانے سے نہ روکے جس کو کھانے کا مریض کو دل کر رہا ہو، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو شفاء دے دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جہاں چاہے شفاء پیدا فرما دیتے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25214
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25214، ترقيم محمد عوامة 24132)
حدیث نمبر: 25215
٢٥٢١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا فليح بن ⦗١٩٥⦘ سليمان عن أيوب بن عبد الرحمن (بن) (١) عبد اللَّه بن (٢) صعصعة عن يعقوب (بن أبي يعقوب) (٣) عن أم المنذر العدوية، قالت: دخل علي النبي ﷺ ومعه علي وهو ناقه ولنا دوالي معلقة قالت: فقام رسول اللَّه ﷺ فأكل وقام علي (فأكل) (٤) فقال: النبي ﷺ: "مهلًا فإنك ناقه" (قال) (٥): فجلس علي، وأكل منها النبي ﷺ، ثم صنعت لهم سلقًا وشعيرًا، فقال النبي ﷺ (لعلي) (٦): "من هذا (أصب) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام منذر عدویہ سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے اور وہ صحت یابی کے بعد کمزور تھے۔ ہماری نیم پختہ کھجوریں لٹکی ہوئی تھیں۔ حضرت ام منذر کہتی ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوریں تناول فرمائیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی کھڑے ہوئے اور کھانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم رہنے دو کیونکہ تم کمزور ہو “ راوی کہتے ہیں۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کھجوروں میں سے تناول فرماتے رہے، پھر میں (ام منذر) نے ان کے لئے سبزی اور جو پکائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” اس میں سے تناول کرو۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25215
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ فليح صدوق، أخرجه أحمد (٢٧٠٥١)، وأبو داود (٣٧٥٦)، والترمذي (٢٥٣٧)، والحاكم (٤/ ٢٠٤)، وابن ماجه (٣٤٤٢)، وابن سعد ٨/ ٤٢٢، والطبراني ٢٥/ (٢٥٨)، والبغوي (٢٨٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25215، ترقيم محمد عوامة 24133)
حدیث نمبر: 25216
٢٥٢١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه قال: أهدي للنبي ﷺ قناع من تمر، وعليٌ محموم، (قال) (١): فنبذ إليه تمرة ثم أخرى، حتى ناوله سبعًا، ثم كف يده وقال: " (حسبك) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہدیہ میں کھجوروں کا ایک طشت پیش کیا گیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ تب بخار میں تھے۔ راوی کہتے ہیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف ایک کھجور پھینکی پھر دوسری پھینکی۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سات کھجوریں دیں اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک دیا اور فرمایا : ” تمہیں یہ کافی ہیں۔ “
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطب / حدیث: 25216
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو جعفر تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25216، ترقيم محمد عوامة 24134)