٢٥١٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل (بن) (١) يوسف عن حميد عن ثابت عن (أبي) (٢) رافع قال: (رآني عمر) (٣) معصوبة يدي أو رجلي، فانطلق بي إلى الطبيب، فقال: بطه، فإن المِدّة إذا تركت بين العظم واللحم أكلته (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ حضرت عمر نے میرے ہاتھ یا میرے پاؤں پر پٹی باندھے ہوئے دیکھا تو مجھے لے کر ایک طبیب کے پاس چل پڑے اور کہا اس کو (دانہ کو) کاٹ دو ، کیونکہ جب پیپ کو ہڈی اور گوشت کے مابین چھوڑ دیا جائے تو وہ اس کو کھا جاتی ہے۔ راوی کہتے ہیں، حسن پھوڑے میں شگاف لگانے کو ناپسند کرتے تھے۔
٢٥١٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معتمر) (١) عن ابن عون عن الحسن أنه كان يكره أن يبط الجرح، ويقول: يوضع عليه دواء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے بارے میں منقول ہے کہ وہ زخم میں شگاف لگانے کو ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے، زخم پر دوائی رکھی جائے۔