حدیث نمبر: 24975
٢٤٩٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا لا يرون بالاستمشاء بأسًا، قال: وإنما كرهوا منه مخافة أن يضعفهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ حضرات اہل علم مسہل دوائی لینے میں کوئی حرج نیں و سمجھتے تھے۔ راوی کہتے ہیں ۔ صرف اسی وجہ سے کچھ اہل علم اس کو ناپسند کرتے تھے کہ کہیں یہ مسہل دواء آدمی کو کمزور نہ کر دے۔
حدیث نمبر: 24976
٢٤٩٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابن أبي نجيح عن عطاء قال: لا بأس أن يستمشي المحرم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ احرام باندھے ہوئے آدمی کے لئے دست آور دواء استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24977
٢٤٩٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن زكريا عن الشعبي قال: كان النبي ﷺ (١) يقول: " (خير) (٢) الدواء (اللدود) (٣) (والسعوط) (٤) والمشي والحجامة والعلق" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے۔ ” بہترین دواء وہ ہے جو منہ کے گوشہ میں ڈال کر استعمال کی جائے اور وہ دواء جو ناک کے راستے سے لی جائے اور مسہل دواء اور پچھنے لگوانا اور عَلَق ۔ جونک لگانا ۔ ہے۔
حدیث نمبر: 24978
٢٤٩٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن (داود) (١) عن الشعبي عن النبي ﷺ (٢) بمثله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
حدیث نمبر: 24979
٢٤٩٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبد الحميد بن جعفر عن زرعة ابن عبد الرحمن عن مولى لمعمر التيمي عن أسماء بنت (عميس) (١) قالت: قال (٢) رسول اللَّه ﷺ: "بماذا كنت تستمشين؟ " قلت: بالشبرم، (قال) (٣): " (حار) (٤) (جار) (٥) ثم (استمشيت) (٦) بالسنا" فقال: "لو كان (شيء) (٧) (يشفي) (٨) من الموت كان السنا (أو) (٩) السنا شفاء من الموت" (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماء بنت عمیس سے روایت ہے ۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مجھ سے) پوچھا۔ ” تم کس چیز سے جُلاب لیتی تھی۔ ؟ “ میں نے جواب دیا۔ شُبُرم کے ذریعہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ یہ تو گرم کھینچنے والی چیز ہے “۔ پھر میں نے سَنَا کے ذریعہ جلاب لیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” اگر موت سے کوئی چیز شفاء دیتی تو سنا ہوتی “۔ یا فرمایا : ” سنا موت سے بھی شفا ہے “۔