حدیث نمبر: 24967
٢٤٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن (ابن أبجر عن) (١) أياد ابن لقيط عن أبي رمثة قال: انطلقت مع أبي وأنا غلام إلى النبي ﷺ (٢) قال: فقال له (أبي) (٣): إني رجل طبيب، فارني هذه السلعة التي بظهرك، قال: " (و) (٤) ما تصنع بها؟ " قال: أقطعها قال: "لست بطبيب، ولكنك (رفيق) (٥)، طبيبها الذي وضعها" -وقال غيره: "الذي خلقها" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رمثہ سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں چھوٹا تھا اور اپنے والد کے ہمراہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ابو رمثہ کہتے ہیں ۔ میرے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا۔ میں حکیم آدمی ہوں لہٰذا آپ کی پشت پر جو ابھرا ہوا گوشت ہے۔ وہ آپ مجھے دکھائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ’ ’ تم اس کو کیا کرو گے ؟ “ میرے والد نے جواب دیا، میں اس کو کاٹ دوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” تم طبیب نہیں ہو، ہاں مگر تم دوست ہو۔ اس کا طبیب وہی ہے جس نے اس کو بنایا ہے۔ یا فرمایا۔ جس نے اس کو پیدا کیا ہے۔
حدیث نمبر: 24968
٢٤٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن أنه كان يكره شرب الأدوية كلها إلا اللبن والعسل.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے بارے میں روایت ہے کہ وہ دودھ اور شہد کے علاوہ تما م ادویات کے پینے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 24969
٢٤٩٦٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة (عن هشام) (١) عن محمد أنه كان يكره شرب الأدوية المعجونة إلا (شيئًا) (٢) يعرفه، وكان إذا أراد شيئا منه وليه بنفسه] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
محمد کے بارے میں روایت ہے کہ وہ مر کب دواؤں کے پینے کو ناپسند سمجھتے تھے۔ ہاں مگر جس دوائی کو وہ پہچانتے تھے (اس کو ناپسند نہیں سمجھتے تھے) اور آپ جب کوئی ایسی دوائی لینا چاہتے تو بذات خود اس کا انتظام کرتے۔
حدیث نمبر: 24970
٢٤٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن الوليد عن (عبيد) (١) بن الحسن عن (ابن) (٢) (معقل) (٣) أنه كره الدواء الخبيث الذي إذا علق قتل صاحبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بن معقل کے بارے میں روایت ہے کہ وہ ایسی خبیث دوائی (کے استعمال) کو ناپسند سمجھتے تھے کہ جب وہ آدمی کی عادت بن جائے تو اس کو مار ڈالے۔
حدیث نمبر: 24971
٢٤٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن يونس بن أبي إسحاق عن مجاهد عن أبي هريرة قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الدواء الخبيث (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبیث دوا سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 24972
٢٤٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن (بن) (١) (محمد) (٢) (المحاربي) (٣) عن عبد الملك بن عمير قال: قيل للربيع بن خثيم في مرضه: ألا ندعوا ⦗١٠٨⦘ (لك) (٤) الطبيب؟ (فقال) (٥): (أنظروني) (٦) ثم تفكر فقال: ﴿(وَ) (٧) عَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَيْنَ ذَلِكَ كَثِيرًا (٣٨) وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْأَمْثَالَ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيرًا﴾ [الفرقان: ٣٨ - ٣٩]، فذكر من حرصهم على الدنيا ورغبتهم فيها، قال: فقد كانت (٨) مرضى، وكان فيهم أطباء، فلا (المداوي) (٩) (بقي) (١٠) ولا (المداوى) (١١)، هلك (الناعت والمنعوت) (١٢) له، واللَّه لا تدعوا لي طبيبًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن عمیر سے روایت ہے ۔ کہتے ہیں کہ ربیع بن خثیم کو ان کی بیماری میں پوچھا گیا کہ کیا ہم آپ کے لئے طبیب کو بُلائیں ؟ انہوں نے فرمایا۔ تم مجھے مہلت دے دو ، پھر انہوں نے غور و فکر فرمایا اور کہا : { وَعَادًا وَثَمُودَ وَأَصْحَابَ الرَّسِّ وَقُرُونًا بَیْنَ ذَلِکَ کَثِیرًا وَکَُلاًّ ضَرَبْنَا لَہُ الأَمْثَالَ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا تَتْبِیرًا } پھر انہوں نے ان لوگوں دنیا پر حرص اور ان کی دنیا میں دلچسپی کا ذکر کیا، فرمایا : یہ لوگ بھی مریض تھے۔ اور ان میں اطباء بھی تھے۔ پس نہ کوئی دوائی لینے والا ہے نہ کوئی دوائی دینے والا ہے۔ تعریف کرنے والا بھی ہلاک ہوگیا اور جس کی تعریف کی گئی وہ بھی ہلاک ہوگیا۔ خدا کی قسم ! تم لوگ میرے لئے طبیب کو نہ بلاؤ۔
حدیث نمبر: 24973
٢٤٩٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن محمد أنه كان يكره (السكر بانا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
محمد کے بارے میں روایت ہے کہ وہ کھجور کے عرق کو ناپسند کرتے تھے اور اس سے انکار کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 24974
٢٤٩٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي هلال عن معاوية بن قرة قال: مرض أبو الدرداء فعادوه فقالوا له: ندعوا لك الطبيب فقال: هو أضجعني (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاویہ بن قرہ سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء بیمار ہوئے تو لوگ ان کی عیادت کو گئے۔ لوگوں نے ان سے کہا۔ ہم آپ کے لئے طبیب نہ بُلائیں ؟ حضرت ابو الدرداء نے فرمایا۔ اس نے تو مجھے بستر پر ڈالا ہے۔