حدیث نمبر: 24878
٢٤٨٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زياد (بن أبي زياد) (١) قال: اشتريت من رجل شاة فنقدته ثمنها، ثم جئت لأقبضها فقال البائع: إنها أرادت أن تموت فذبحها أهلي، (فخاصمته) (٢) إلى شريح فقال شريح: رد عليه الثمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن ابو زیاد فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص سے بکری خریدی اور ثمن ادا کردیا، پھر جب میں اس پر قبضہ کرنے آیا تو بائع نے کہا کہ بکری مرنے لگی تھی تو میں نے اس کو ذبح کر یا، میں جھگڑا حضرت شریح کے پاس لے گیا، حضرت شریح نے فرمایا : اس پر ثمن لٹاؤ۔
حدیث نمبر: 24879
٢٤٨٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن عامر أنه سئل عن رجل اشترى عبدًا فقال المشتري للبائع: (بعه) (١) لي، فهو منك أنفق (٢)، فمات العبد في يد البائع، فقال: يغرم البائع ثمنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے غلام خریدا، پھر مشتری نے بائع سے کہا، اس کو میرے لئے فروخت کر دے وہ تجھ سے زیادہ مفلس ہے، غلام بائع کے ہاتھ میں فوت ہوگیا ؟ فرمایا : بائع اس کے ثمن کا ضامن ہوگا۔
حدیث نمبر: 24880
٢٤٨٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: (إذا) (١) (اعتقب) (٢) البائع البيع ببعض الثمن، فمات فهو من مال البائع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر بائع ثمن وصول کرنے کے لئے مبیع کو اپنے پاس روک لے اور وہ ہلاک ہوجائے تو وہ بائع کے مال سے شمار ہوگا۔