کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات فرماتے ہیں اگر اس میں کچھ کام کر دے تو پھر اس کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 24839
٢٤٨٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث قال: سألت الشعبي والحكم عن الرجل (يكتري) (١) الإبل ثم يكريها بأكثر مما استأجرها، قال: لا بأس إذا عمل فيها بنفسه أو اكترى فيها أجيرا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی اور حضرت حکم سے دریافت کیا کہ آدمی اونٹ کرایہ پر لے پھر اس سے زیادہ کرایہ پردے دے ؟ فرمایا اگر اس نے خود اس میں کام کیا ہو یا اس میں اجیر کرایہ پر لیا ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24840
٢٤٨٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن عبد الملك عن عطاء أنه سئل عن رجل اكترى إبلا فأكراها بأكثر من ذلك، قال: فتردد ساعة ثم قال: ما أرى به بأسا في رأيي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص اونٹ کرایہ پر لے کر اس سے زیادہ کرایہ پردے دے ؟ آپ ایک لمحہ خاموش رہے پھر فرمایا میرے خیال میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24841
٢٤٨٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود عن زمعة عن ابن طاوس عن أبيه قال: لا بأس إذا اكتريت بيتًا أن تكريه بأكثر من أجره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں اگر آپ گھر کرایہ پر لے کر اس سے زیادہ کرایہ پردے دیں تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 24842
٢٤٨٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عوف عن هشام بن هبيرة أنه كرهه إلا أن يستعمل، أو يسكن في الدار، أو يسكن (بعضها) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن ہبیرہ اس کو ناپسند فرماتے تھے، الا یہ کہ اس میں کوئی کام کرے یا پھر خود بھی اس گھر میں یا اس کے کچھ حصہ رہائش اختیار کرے۔
حدیث نمبر: 24843
٢٤٨٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن الحكم قال: إذا استأجر الرجل الدار فأجر بعضها (وأسكن) (٢) بعضها، قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر گھر کرایہ پر لے کر پھر کچھ حصہ میں خود رہے اور کچھ کرایہ پردے دے تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 24844
٢٤٨٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن (حصين) (١) عن عامر أنه كرهه إلا أن يصلح فيها شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اس کو ناپسند فرماتے ہیں مگر یہ کہ اس میں کام کرے۔
حدیث نمبر: 24845
٢٤٨٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الربيع ومبارك وأبو هلال عن الحسن (قال) (١): لا بأس أن يستأجر الرجل (الشيء) (٢) ثم (يؤجره) (٣) بأكثر مما استأجره.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ آدمی کرایہ پر کوئی چیز لے کر اس سے زیادہ کرایہ پردے دے تو کوئی حرج نہیں ۔
حدیث نمبر: 24846
٢٤٨٤٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ليث عن عطاء أنه كان لا يرى بأسًا أن يستأجر الرجل البيت ثم (يؤاجره) (١) بأكثر] (٢) مما (استأجره) (٣) به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ آدمی کرایہ پر کوئی چیز لے کر اس سے زیادہ پر کرایہ پردے دے تو کوئی حرج نہیں ۔
حدیث نمبر: 24847
٢٤٨٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم قال: إذا (دُفع) (١) إليه (زميل) (٢) أو مر فواجره بأكثر مما استأجره (به) (٣) فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر ہتھوڑے اور پھاؤڑے وغیرہ سے کوئی کام شروع کر دے تو پھر کرایہ سے زیادہ کرایہ پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 24848
٢٤٨٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسحاق بن منصور عن محمد بن راشد عن مكحول أنه كان لا يرى بأسًا أن (يؤاجر) (١) الأجير أو الشيء بأكثر مما استأجره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ اجیر یا کسی اور چیز کو زیادہ اجرت پر آگے دینا جائز ہے۔