حدیث نمبر: 24815
٢٤٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) زكريا عن الشعبي عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (الرهن) (٢) يُركب إذا كان مرهونا، ولبن ⦗٦٢⦘ الدر يشرب إذا كان مرهونا، وعلى الذي يركب ويشرب نفقته" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رہن رکھی ہوئی چیز پر سوار ہوا جائے گا اور دودھ پیا جائے گا ، اور جس نے دودھ پیا اور سواری کی اس پر اس کا نفقہ ہے۔
حدیث نمبر: 24816
٢٤٨١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن عباد بن العوام عن الشيباني عن الشعبي في عبد رهن (قال) (١): نفقته على الراهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے رہن والے غلام کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایا اس کا نفقہ راہن پر ہے۔
حدیث نمبر: 24817
٢٤٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا مفضل (بن) (١) مهلهل عن سفيان قال: نفقة الرهن على الراهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ رہن کا نفقہ راہن پر ہے۔
حدیث نمبر: 24818
٢٤٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: سمعت حسن بن صالح قال: نفقة (الرهن) (١) على المرتهن لأنه في ضمانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن صالح فرماتے ہیں کہ رہن کا نفقہ مرتہن پر ہے کیونکہ وہ اس کی ضمان میں ہے اور حضرت ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ نفقہ راہن پر ہے۔
حدیث نمبر: 24819
٢٤٨١٩ - وقول أبي حنيفة: على الراهن.
حدیث نمبر: 24820
٢٤٨٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا يحيى بن آدم) (١) قال: سألت شريكا على (من) (٢) نفقة الحيوان إذا كان رهنا؟ (قال) (٣): على الراهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن آدم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شریک سے دریافت کیا کہ اگر حیوان کو رہن رکھوایا جائے تو نفقہ کس پر ہوگا ؟ فرمایا راہن پر۔
حدیث نمبر: 24821
٢٤٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن الربيع (١) بن (سعد) (٢) ⦗٦٣⦘ قال: سألت أبا جعفر عن رجل أشتري منه طعاما (فيعطيني) (٣) بعضه ثم يقطع به (فلا) (٤) يجد ما يعطيني فيقول: بعني (من) (٥) طعامك حتى أعطيك، قال: لا تقربن هذا، هذا الربا (الصراحية) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ میں نے ایک شخص سے گندم خریدی، پھر اس نے مجھے کچھ دیا، پھر اس کے پاس طعام ختم ہوگیا۔ اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا جو مجھے دے سکتا۔ اس نے کہا اپنی گندم میں سے مجھے فروخت کر دے تاکہ میں تجھے (تیرا باقی حصہ) دے دوں ؟ حضرت ابو جعفر نے فرمایا : اس کے قریب بھی مت جانا یہ کھم کھلا سود ہے۔