کتب حدیث › مصنف ابن ابي شيبه › ابواب › باب: کسی شخص کا دوسرے کو بطور مضاربت مال دینا
❮
❯
٢٤٧٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: يكره أن ⦗٤٨⦘ (يقول) (١) المضارب لصاحبه: أنا أفضلك عشرين درهما أو ثلاثين، ولا يرى بأسا أن يقول: أفضلك بثلث أو ربع أو سدس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ مضارب اپنے ساتھی سے یوں کہے کہ : میں تجھ سے بیس یا تیس درہم لوں گا، اور اگر وہ یوں کہے کہ میں تجھ سے ثلث، ربع یا سدس زیادہ لوں گا تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24770
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24770، ترقيم محمد عوامة 23696)
٢٤٧٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب وابن سيرين أنهما كانا (لا يريان) (١) بأسا أن يدفع الرجل إلى الرجل مالا مضاربة ويقول: لك منها ربح ألف درهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب اور حضرت ابن سیرین اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ کوئی شخص دوسرے کو مال مضاربۃ یہ کہہ کر دے کہ اس میں سے ایک ہزار درہم کا نفع آپ کا ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24771
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24771، ترقيم محمد عوامة 23697)
٢٤٧٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن سعيد عن قتادة عن الحسن أنه كان يكره ذلك إلا أن يجعل له ثلثا أو ربعا أو خمسًا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن ثلث، ربع اور خمس کے علاوہ مضاربت کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24772
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24772، ترقيم محمد عوامة 23698)