کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص کسی کو کچھ دے اور وہ اس سے ضائع ہو جائے تو اس کا بیان
حدیث نمبر: 24765
٢٤٧٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير (عن مغيرة) (١) عن فضيل قال: ⦗٤٧⦘ أعطاني إنسان دينارا أشتري له (به) (٢) برا، فهلك فقلت (للحناط) (٣): كل مكانه، فذكرته لإبراهيم فقال: ما كان عليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ مجھے ایک شخص نے دینار دیا تاکہ میں اس کے لئے گندم خریدوں، وہ مجھ سے ضائع (ہلاک) ہوگیا، میں نے گندم والے سے کہا کہ اس کی جگہ مجھے اور گندم تول دے، میں نے ابراہیم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : تجھ پر لازم نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 24766
٢٤٧٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن عمران (الخياط) (١) قال: أعطتني امرأة دراهم اشتري لها (بها) (٢) فهلك منها مثقال، فذكرته لإبراهيم فقال: اجعل مكانه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران الخیاط فرماتے ہیں کہ مجھے ایک خاتون نے دراہم دئیے تاکہ میں اس کے لئے ان کے بدلہ کچھ خریدوں، ان میں سے کچھ ضائع ہوگئے ، میں نے ابراہیم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا اس کی جگہ (اُس کے بدلہ) دراہم دو ۔
حدیث نمبر: 24767
٢٤٧٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر وأبو أسامة عن هشام عن الحسن قال: ليس على الرسول ضمان.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ قاصد پر ضمان نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24768
٢٤٧٦٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن القاسم عن علي وعبد اللَّه قالا: ليس على مؤتمن ضمان] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں جس کے امانت رکھوائی جائے اس پر ضمان نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24769
٢٤٧٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر عن ابن جريج عن عطاء قال: ليس على المؤتمن غرم إلا أن يخالف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ معتمد علیہ پر ضمان نہیں ہے سوائے اس کے جس کی وہ خلاف کرے۔