٢٤٦٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (سفيان عن) (١) (٢) سليمان التيمي عن ابن سيرين في الرجل يقضي من القمار، قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آدمی کو جوئے کی رقم سے قرضہ ادا کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اور حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی کو سود میں سے قرضہ دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔