کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص مدتِ مقررہ کے لئے دین کی بیع کرے
حدیث نمبر: 24619
٢٤٦١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سعيد بن زيد عن أبي (عبد اللَّه) (١) (الشقري) (٢) (عن إبراهيم) (٣) في رجل (باع بيعا) (٤) إلى أجل، فباعه (المشتري) (٥) من رجل، أيشتريه صاحبه الذي باعه؟ قال: إذا لم يكن فيه (مواكسة) (٦) فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے دریافت کیا گیا کہ کسی شخص نے ایک مقررہ مدت کے لئے بیع کی ، مشتری نے اس کو ایک شخص کو فروخت کردیا، تو کیا جس نے فروخت کیا تھا وہ خرید سکتا ہے ؟ فرمایا اگر اس میں اس کا نقصان نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24619
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24619، ترقيم محمد عوامة 23559)
حدیث نمبر: 24620
٢٤٦٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن [سعيد بن زيد عن هشام عن الحسن في هذا: إذا لم يكن فيه مواكسة فلا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس کے متعلق فرماتے ہیں کہ اگر اس میں نقصان نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24620
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24620، ترقيم محمد عوامة 23560)
حدیث نمبر: 24621
٢٤٦٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن] (١) سعيد بن (السائب) (٢) عن داود بن أبي عاصم أنه باع من (أخته) (٣) بيعًا إلى أجل ثم أمرته أن يبيعه، فباعه، (٤) فسألتُ ابن المسيب فقال: أبصر أن يكون هو أنت؟ قلت: أنا هو، قال: [(ذلك) (٥) الربا] (٦)، فلا تأخذ (منها) (٧) إلا رأس مالك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن ابی عاصم سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنی بہن سے ایک مدت تک کے لئے بیع کی، پھر ان کی بہن نے اس کو فروخت کردیا، میں نے حضرت سعید بن المسیب سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : دیکھ لو کیا آپ وہی ہو ؟ میں نے عرض کیا جی میں وہی ہوں ، فرمایا وہ ربا ہے، وہ سود ہے، آپ اس سے صرف راس المال واپس لے لو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24621
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24621، ترقيم محمد عوامة 23561)