کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: دو شخص کسی مال میں شریک ہوں لیکن لیکن اس حال کو مخلوط نہ کریں
حدیث نمبر: 24581
٢٤٥٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى قال: (أخبرنا) (٢) سفيان عن جابر (عن الشعبي) (٣) في رجلين اشتركا، فأخرج كل واحد ⦗٥٤٤⦘ (منهما) (٤) عشرة آلاف ولم (يخلطاها) (٥) فعمل أحدهما بما عنده (فتوى) (٦)، فلم (يره) (٧) شريكا (وقال) (٨): النقصان وما (توى) (٩) عليه، وليس على الآخر منه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے ان شخصوں کے متعلق جو دونوں شریک ہیں، ان میں سے ہر ایک نے دس ہزار دراہم نکالے، لیکن آپس میں ملائے نہیں، پھر ان میں سے ایک نے اپنے پاس موجودہ مال سے کام کیا لیکن سارا مال برباد ہوگیا۔ وہ دوسرے کو شریک نہیں سمجھتا۔ انہوں نے جواب دیا کہ نقصان اور ہلاکت اسی پر ہوگی۔ دوسرے کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24581
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24581، ترقيم محمد عوامة 23524)
حدیث نمبر: 24582
٢٤٥٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه (قال) (١): قال سفيان: لا تكون شركة بينهما حتى يخلطا أموالهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ دو بندوں کے درمیان جب تک ان کے مال آپس میں نہ ملیں وہ شرکت نہ ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 24582
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24582، ترقيم محمد عوامة 23525)