حدیث نمبر: 24550
٢٤٥٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن عاصم (بن) (١) عبيد اللَّه عن (عبد اللَّه بن) (٢) عامر بن ربيعة قال: شهدت عمر بن الخطاب أقام (شاهد) (٣) زور عشية في إزار ينكت نفسه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جھوٹے گواہ کو شام کے وقت ایک چادر میں کھڑا کیا ہوا تھا اس کو ملامت کر رہے تھے۔
حدیث نمبر: 24551
٢٤٥٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي الحصين قال: كان شريح يبعث بشاهد الزور إلى مسجد قومه أو إلى سوقه (١): إنا قد (زيفنا) (٢) شهادة هذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ جھوٹے گواہ کو مسجد یا بازار میں بھیج کر یہ اعلان کرواتے کہ : ہم نے اس کی گواہی کو رد کردیا ہے (یہ جھوٹا ہے) ۔
حدیث نمبر: 24552
٢٤٥٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع قال:) (١) حدثنا المسعودي عن أبي حصين قال: جلس إليَّ القاسم (فقال) (٢): أي شيء كان يصنع شريح بشاهد الزور إذا أخذه، قال: قلت كان يكتب اسمه عنده، (فإن) (٣) كان من العرب بعث به إلى مسجد قومه، وإن كان من الموالي بعث به إلى سوقه، يعلمهم ذلك منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم رحمہ اللہ میرے پاس تشریف فرما تھے، فرمایا : حضرت شریح جب جھوٹے گواہ کو پکڑتے تو اس کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ، میں نے عرض کیا : اس کا نام اپنے پاس لکھ دیتے اور پھر اگر وہ عرب میں سے ہوتا تو اس کو مسجد بھیج دیتے ، اور اگر وہ موالی میں سے ہوتا تو اس کو بازار میں بھیج دیتے اس کے متعلق لوگوں کو بتاتے۔
حدیث نمبر: 24553
٢٤٥٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن الجعد بن ذكوان قال: شهدت شريحا ضرب شاهد الزور خفقات، ونزع عمامته عن رأسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعد فرماتے ہیں کہ میں حضرت شریح کے پاس موجود تھا، آپ نے جھوٹے گواہ کے سر سے عمامہ اتروا کر اس کو ” خفقات “ مروائے (خفقات سے مراد کوئی ایسا آلہ ہے ک ہ جس سے مارا جاتا تھا۔ ممکن ہے اس سے مراد جوتے ہوں) ۔
حدیث نمبر: 24554
٢٤٥٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن عبد الكريم (الجزري) (٢) قال: شهد فوم عند عمر بن عبد العزيز على هلال رمضان، فاتهمهم فضربهم سبعين (سبعين) (٣)، وأبطل شهادتهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الکریم الجزری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس کچھ لوگوں نے رمضان کے چاند کی گواہی دی، آپ نے ان کو جھوٹا قرار دیا اور ان سب کو ستر ستر کوڑے مارے اور ان کی شہادت کو باطل قرار دیا۔
حدیث نمبر: 24555
٢٤٥٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: شاهد الزور يعزر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جھوٹے گواہ کی تعزیر کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 24556
٢٤٥٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يونس عن الحسن قال: شاهد الزور يضرب شيئا ويعرف الناس ويقال: إن هذا (يشهد) (١) بزور.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جھوٹے گواہ کو مارا جائے گا، اور لوگوں میں اس کو مشہور کیا جائے گا، اور اعلان کیا جائے گا کہ یہ جھوٹاگواہ ہے۔
حدیث نمبر: 24557
٢٤٥٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد عن أشعث عن الشعبي قال: شاهد الزور يضرب ما دون أربعين: خمسة وثلاثين، ستة وثلاثين، سبعة وثلاثين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جھوٹے گواہ کو چالیس سے کم ، پینتیس یا چھتیس یا سینتیس کوڑے مارے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 24558
٢٤٥٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا المحاربي عن عبد اللَّه بن سعيد (أن) (١) عمر ابن عبد العزيز جلد شاهد الزور سبعين سوطا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے جھوٹے گواہ کو ستر کوڑے مارے۔
حدیث نمبر: 24559
٢٤٥٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا المحاربي عن الجعد أبي عثمان قال: كان شريح إذا أتي بشاهد الزور خفقه خفقات ونزع عمامته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح کے پاس جب جھوٹا گواہ آتا تو آپ اس کا عمامہ اتروا کر اس کو جوتے لگواتے۔