کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: قاضی کے فیصلہ کے بعد دوسرے قاضی سے فیصلہ طلب کرنا، کیا اُس کو پہلے قاضی کا حکم رد کرنے کا اختیار ہے؟
حدیث نمبر: 24505
٢٤٥٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم قال: سمعت الشعبي وسئل عن قاض قضى بجور، فقال الشعبي: أما الجور فلا أقول فيه، يقول: إنه لا ينبغي له أن يجور، (ولكن) (١): أيما قاض قضى فجاء قاض من ⦗٥٢٣⦘ بعده، (فلا) (٢): ينبغي له أن ينظر في قضائه، ويوليه (من) (٣) ذلك ما كان (تولى) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے دریافت کیا گیا کہ اگر قاضی نے ظلماً فیصلہ کیا ہو ؟ حضرت شعبی نے فرمایا : ظلم کے متعلق تو میں کچھ نہیں کہتا، فرماتے ہیں کہ قاضی کے لئے ظلماً فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ بہرحال کوئی قاضی فیصلہ کرے، پھر اس کے بعد دوسرے قاضی کے پاس فیصلہ لایا جائے، اس دوسرے قاضی کے لئے اس پہلے قاضی کے فیصلہ پر نظر ثانی کرنا مناسب نہیں ہے۔ اور جن فیصلوں کی ذمہ داری اس کی تھی وہ اسی کی کے سپرد کر دے۔