کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ ملتوں (مذہب) کا اختلاف ہو تو گواہی قابلِ قبول نہیں
حدیث نمبر: 24367
٢٤٣٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يونس عن (الحسن) (١) أنه وإن يقول: إذا اختلفت (الملل) (٢) (لا تجوز) (٣) شهادة بعضهم على بعض.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے تھے کہ جب مذہب کا اختلاف ہو تو پھر بعض کی گواہی بعض کے حق میں قبول نہیں۔
حدیث نمبر: 24368
٢٤٣٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ليث عن عطاء قال: لا تجوز شهادة اليهودي على النصراني، ولا النصراني على (اليهودي) (١)، ولا ملة على غير ملتها إلا المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ یہودی کی نصرانی پر نصرانی کی یہودی پر گواہی قبول نہیں، اور مسلمانوں کے علاوہ ایک مذہب والے کی دوسرے مذہب والوں پر قبول نہیں۔
حدیث نمبر: 24369
٢٤٣٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن داود عن الشعبي قال: لا تجوز شهادة ملة على ملة إلا المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے علاوہ ایک مذہب والے کی دوسرے مذہب والوں پر گواہی قابل قبول نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24370
٢٤٣٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن معمر عن الزهري [وحماد] (١) (قالا) (٢): لا تجوز شهادة أهل الكتاب بعضهم على بعض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری اور حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے بعض کی بعض پر گواہی قبول نہیں۔
حدیث نمبر: 24371
٢٤٣٧١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم وحماد عن إبراهيم قال: لا تجوز شهادة أهل الكتاب بعضهم على بعض] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ مشرکین کی ایک دوسرے پر گواہی ناقابل قبول ہے۔
حدیث نمبر: 24372
٢٤٣٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث، عن الحكم وحماد، عن إبراهيم (و) (١) الشعبي (و) (٢) الحسن (قالوا) (٣): لا تجوز شهادة أهل ملة إلا على أهل ملتها: اليهودي على اليهودي، والنصراني على النصراني.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم، حضرت شعبی اور حسن فرماتے ہیں کہ ایک مذہب والے کی دوسرے مذہب والے پر گواہی قبول نہیں۔ یہودی کی یہودی پر اور نصرانی کی نصرانی پر قبول ہے۔
حدیث نمبر: 24373
٢٤٣٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن جويبر عن الضحاك أنه كان لا يقبل شهادة ملة على غيرهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک ایک مذہب والے کی دوسرے مذہب والے پر گواہی قبول نہ فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 24374
٢٤٣٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم عن شهادة اليهودي على النصراني (و) (١) النصراني على اليهودي، فقال الحكم: لا تجوز شهادة أهل دين على (أهل) (٢) دين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے دریافت کیا کہ یہودی کی نصرانی اور نصرانی کی یہودی پر گواہی کا کیا حکم ہے ؟ حضرت حکم نے فرمایا : ایک مذہب والے کی دوسرے مذہب والے پر گواہی قبول نہیں۔
حدیث نمبر: 24375
٢٤٣٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا عمر بن راشد عن يحيى ابن أبي كثير عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: لا تجوز شهادة ملة على ملة إلا المسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک مذہب والوں کی دوسرے مذہب والوں پر گواہی قبول نہیں سوائے مسلمانوں کے۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن ابی لیلیٰ یہودی کی نصرانی پر اور نصرانی کی یہودی پر گواہی قبول نہ فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 24376
٢٤٣٧٦ - قال وكيع: كان ابن أبي ليلى لا يجيز شهادة اليهودي على النصراني، ولا النصراني على اليهودي.