کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص کھانا خریدے اور وہ زیادہ نکل آئے تو زیادتی کس کی ہو گی؟
حدیث نمبر: 24319
٢٤٣١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن هشام عن الحسن قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن بيع الطعام [حتى يجري فيه الصاعان، فتكون له زيادته وعليه نقصانه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کی بیع سے منع فرمایا ہے جب تک کہ اس میں دو صاع جاری نہ ہوجائیں۔ پھر زیادتی اور کمی دونوں مشتری کی ہی ہوں گی۔
حدیث نمبر: 24320
٢٤٣٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن ابن سيرين عن عبيدة قال: نهي عن بيع الطعام حتى يجري فيه] (١) الصاعان، فتكون زيادته لمن اشترى، ونقصانه على البائع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ سے مروی ہے کہ اس کھانے کی بیع سے منع فرمایا ہے کہ جس میں دو صاع رائج نہ ہوجائیں۔ زیادتی مشتری کے لئے اور نقصان بائع پر ہوگا۔
حدیث نمبر: 24321
٢٤٣٢١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن ابن سيرين والحسن أنهما (سئلا) (١) عن الرجل يشتري الطعام يبيعه بكيله، (فقالا) (٢)؛ لا، (حتى) (٣) يجري فيه الصاعان، فتكون له الزيادة وعليه النقصان] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اور حسن سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے کھانا خریدا ہے تو کیا وہ کیل کرکے اس کو فروخت کرسکتا ہے ؟ فرمایا کہ نہیں، یہاں تک کہ اس میں دو صاع جاری ہوجائیں پھر زیادتی اور کمی دونوں مشتری کی ہی ہوں گی۔
حدیث نمبر: 24322
٢٤٣٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن الشعبي والحكم في الرجل يشتري الطعام (فيزيد) (١)، فقالا: إن كان غلط رده، وإن كان زيادة رده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حضرت حکم سے مروی ہے کہ کوئی شخص کھانا خریدے پھر وہ زیادہ نکل آئے ، فرمایا : اگر غلطی ہوگئی تھی تو واپس کر دے ، اگر زیادہ ہو اس کو واپس کر دے۔
حدیث نمبر: 24323
٢٤٣٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا مهدي بن ميمون عن عاصم بن بشير بن البراء قال: سمعت مورقا العجلي يقول: لقد بعثنا بسفينة من الأهواز إلى البصرة فيها ثلاثون كرا، ما هو إلا فضل (ما) (١) بين الكيلين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مورق العجلی فرماتے ہیں کہ ہم نے اہواز سے بصرہ کی طرف کشتی بھیجی جس میں تیس کُرْ سامان تھا۔ اور وہ سامان صرف دو کیلوں کے مابین سے بچا ہوا سامان تھا (یعنی ایک کیل سے دوسرا کیل کرتے وقت جو بچ جائے یا گرجائے) ۔
حدیث نمبر: 24324
٢٤٣٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر عن ابن جريج عن عطاء قال: إن بعت (طعامًا) (١) فوجدت زيادة ذلك، أو نقصانا فعليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر آپ کھا نے کی بیع کرو ، پھر اگر وہ زیادہ نکلے تو زیادتی آپ کے لئے ہے اور اگر نقصان ہو تو وہ بائع پر ہے۔