حدیث نمبر: 24291
٢٤٢٩١ - (حدثنا أبو محمد عبد اللَّه بن يونس قال: حدثنا أبو عبد الرحمن بقي ابن مخلد قال: حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال) (١): حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبد اللَّه بن الحسن عن أمه فاطمة ابنة حسين أن زيد بن حارثة قدم يعني من أيلة، فاحتاج إلى ظهر فباع بعضهم، فلما قدم على النبي ﷺ رأى امرأة منهم تبكي، قال: ما شأن هذه؟ فأخبر أن زيدًا باع ولدها، فقال [له] (٢) النبي ﷺ: "اردده أو اشتره" (٣).
حدیث نمبر: 24292
٢٤٢٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن أبي ليلى عن الحكم عن علي قال: بعث (معي) (١) النبي ﷺ بغلامين سبيين مملوكين أبيعهما، فلما أتيته قال: جمعت (أو) (٢) فرقت؟ قلت: فرقت؟ قال: "فأدرك أدرك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ دو قیدی بچوں کو بھیجا ، تاکہ میں ان کو فروخت کر آؤں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا اکھٹے فروخت کیا ہے یا پھر الگ ؟ میں نے عرض کیا کہ الگ، آپ نے فرمایا کہ ان کو پکڑو (یعنی واپس لے کر آؤ) ۔
حدیث نمبر: 24293
٢٤٢٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن عمرو بن دينار عن (١) فروخ قال: كتب عمر: لا تفرقوا بين الأخوين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا : دو بھائیوں کے درمیان علیحدگی مت کرو، اکٹھے فروخت کرو، یا ایک ساتھ اپنے پاس رکھو۔
حدیث نمبر: 24294
٢٤٢٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة (عن عمرو) (١) عن عبد الرحمن ابن فروخ وربما قال: عن أبيه أن عمر قال: لا تفرقوا بين الأم وولدها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عاملوں کو تحریر فرمایا : باندی اور اس کی اولاد کے درمیان تفریق مت کرو۔
حدیث نمبر: 24295
٢٤٢٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن يونس عن حميد بن هلال (قال) (١): قال عقال -أو حكيم بن عقال- (٢): كتب عثمان بن عفان إلى عقال: أن يشتري مائة أهل بيت (يرفعهم) (٣) إلى المدينة، ولا يشتري (لى) (٤) شيئًا يفرق بينه وبين (والده) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے عقال کو لکھا کہ ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے سو غلام خرید کر مدینہ کی طرف ان کو لے جاؤ، لیکن ان میں کوئی ایسا غلام مت خریدو جس میں اس کے اور اس کے والدین کے درمیان تفریق لازم آئے۔
حدیث نمبر: 24296
٢٤٢٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن حبيب (١) بن شهاب عن أبيه أنه غزا مع أبي موسى، فلما فتحوا تستر كان لا يفرق بين المرأة وولدها في البيع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن شھاب سے مروی ہے کہ وہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جہاد میں شریک تھے، جب مقام تستر فتح ہوا، تو فروخت کرتے وقت عورتوں اور ان کے بچوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 24297
٢٤٢٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن موسى بن علي قال: سمعت ابن أبي جبلة القرشي يقول: كانوا يفرقون بين السبايا، فيجيء أبو أيوب فيجمع بينهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جبلۃ القرشی سے مروی ہے کہ وہ لوگ قیدیوں کے درمیان تفریق کرتے تھے، حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ان سب غلاموں کو جمع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 24298
٢٤٢٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إنما كرهوا بيع الرقيق مخافة أن يفرقوا بين الولد و (والده) (١) وبين الأخوة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم، بیٹے اور والد کے درمیان جدائی نہ ہوجائے یا بھائیوں کے مابین جدائی نہ ہوجائے۔ اس ڈر کی وجہ سے غلاموں کی بیع ہی نہ کرتے تھے، (ناپسند کرتے تھے)
حدیث نمبر: 24299
٢٤٢٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه عن ابن مسعود قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أتي بالسبي أعطى (١) أهل البيت جميعًا كراهية أن يفرق بينهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی بچہ لایا جاتا تو آپ تمام اہل بیت کو وہ بچہ دے دییت تاکہ ان کے مابین تفریق نہ ہو۔
حدیث نمبر: 24300
٢٤٣٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أيوب عن حميد بن هلال عن حكيم بن عقال: قال: كتب عثمان إلى أبي أن (اشتر لي) (١) مائة أهل بيت، ولا تفرق بين والد وولده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے عقال کو لکھا کہ ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے سو غلام خرید کر مدینہ کی طرف ان کو لے جاؤ، لیکن ان میں کوئی ایسا غلام مت خریدو جس میں اس کے اور اس کے والدین کے درمیان تفریق لازم آئے۔
حدیث نمبر: 24301
٢٤٣٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسحاق الأزرق عن هشام عن الحسن ومحمَّد أنهما كانا يكرهان أن يفرق بين الأمة وولدها.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد باندی اور اس کی اولاد کے درمیان تفریق کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 24302
٢٤٣٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن (الحسن) (١) أنه كان يكرهه ويقول: لا بأس به إذا (أوصف) (٢) أو (أوصفت) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس کو ناپسند کرتے تھے، اور فرماتے تھے کہ اگر وہ بلوغ کی حد کو پہنچ جائے تو پھر تفریق کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 24303
٢٤٣٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) عن إبراهيم بن إسماعيل عن طليق بن عمران عن أبي بردة عن أبي موسى أن النبي ﷺ نهى أن يفرق بين (الأمة) (٢) وولدها في البيع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع کرتے وقت باندی اور اس کی اولاد میں تفریق کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 24304
٢٤٣٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل (بن يوسف) (١) عن ابن عون قال: كتبت إلى نافع أسأله عن أهل البيت يكونون للرجل، أيصلح أن يفرق بينهم؟ قال: فقال: لا أعلم ذلك حراما، ولكن يكره عندنا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع کو لکھا اور ان سے دریافت کیا کہ اگر ایک ہی گھر کے کچھ افراد کسی کے غلام ہوں تو کیا وہ فروخت کرتے وقت ان کے درمیان جدائی کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں اس کو حرام نہیں سمجھتا، لیکن ناپسندیدہ ہے۔
حدیث نمبر: 24305
٢٤٣٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب بن عطاء عن ابن أبي عروبة عن داود (بن) (١) أبي القصاف عن رياح بن عبيدة أن عمر بن عبد العزيز كتب إليه أن يبيع رقيقًا من رقيق الإمارة، و (أن يبيع) (٢) أهل البيت جميعًا، ولا (يفرق) (٣) بينهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے حضرت ریاح بن عبیدہ کو لکھا کہ شاہی غلاموں کو بیچ دو ۔ لیکن ایک خاندان سے تعلق رکھنے والے غلاموں کو اکٹھے بیچنا تاکہ ان میں تفریق نہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 24306
٢٤٣٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث عن عامر قال: كتب عمر: (ألا) (١) تفرقوا بين السبايا وأولادهن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا کہ قیدیوں اور ان کی اولاد کے درمیان فروخت کرتے وقت جدائی مت کرو۔
حدیث نمبر: 24307
٢٤٣٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن يزيد بن إبراهيم عن ابن سيرين قال: نبئت أن ابنًا لابن عمر قال له: (تكره) (١) أن يفرق بين الأمة و (بين) (٢) (ابنها) (٣) وقد فرقت بيني وبين أمي (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک بیٹے نے ان سے یہ شکایت کی کہ آپ بچہ اور اس کی والدہ کے مابین تفریق کو ناپسند سمجھتے ہیں جبکہ آپ نے میرے اور میری والدہ ک ے درمیان جدائی کردی ہے۔
حدیث نمبر: 24308
٢٤٣٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن جابر عن أبي جعفر (يرفعه) (١) قال: كان النبي ﷺ إذا قدم عليه السبي أعطى أهل البيت: أهل البيت كراهية أن يفرق بينهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب قیدی بچے آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاندان کو اسی کے خاندان سے غلام اور بچے عطا فرماتے تاکہ ان میں تفریق نہ ہو۔