کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جب راستے اور حدود الگ اور جدا ہو جائیں تو پھر حق شفعہ نہیں ہے
حدیث نمبر: 24223
٢٤٢٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مالك بن أنس عن الزهري عن سعيد بن المسيب وأبي سلمة (قالا) (١): قضى رسول اللَّه ﷺ بالشفعة (في ⦗٤٥٠⦘ كل) (٢) ما لم يقسم، فإذا وقعت الحدود فلا شفعة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس شخص کے لئے شفعہ کا فیصلہ فرمایا جس کا حصہ تقسیم نہ ہوا ہو، اور (جب) اگر حدود الگ الگ ہوجائیں تو شفعہ کا حق حاصل نہیں۔
حدیث نمبر: 24224
٢٤٢٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن محمد بن عمارة عن أبي بكر ابن محمد بن عمرو بن حزم عن أبان بن عثمان (قال) (١): قال عثمان: لا شفعة في بئر ولا (فحل) (٢)، و (الأرف) (٣) يقطع كل شفعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان ارشاد فرماتے ہیں کہ کنویں اور چکی میں حق شفعہ حاصل نہیں، اور حد بندی ہر شفعہ کے حق کو ختم کردیتی ہے۔
حدیث نمبر: 24225
٢٤٢٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) يحيى بن سعيد عن عون بن عبيد اللَّه بن أبي رافع عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه قال: قال عمر بن الخطاب: إذا وقعت الحدود، وعرف الناس حدودهم فلا شفعة بينهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ جب حدود جدا جدا ہوجائیں اور لوگوں کو حدود معلوم بھی ہوجائیں تو پھر ان میں آپس میں شفعہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24226
٢٤٢٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن إياس ابن معاوية أنه كان يقضي (بالجوار) (١) حتى جاءه كتاب عمر بن عبد العزيز: ألا ⦗٤٥١⦘ يقضي به إلا ما كان (من) (٢) شريكين مختلطين، أو (دارًا) (٣) يغلق عليها (باب) (٤) (واحد) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن معاویہ پڑوسیوں کے لئے شفعہ کا فیصلہ فرماتے تھے، یہاں تک کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا ان کے پاس خط پہنچا۔ اس میں تحریر تھا کہ پڑوسی کے حق میں فیصلہ نہ کیا کرو۔ ہاں البتہ اگر دونوں باہم شریک ہوں یا پھر گھر دونوں کا ایسا ہو کہ ایک ہی دروازہ دونوں کو سکتا ہو تو تب پڑوسی کے حق میں فیصلہ دے سکتے ہو۔
حدیث نمبر: 24227
٢٤٢٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن جريج قال: أخبرني (الزبير) (١) (بن) (٢) موسى عن عمر بن عبد العزيز قال: إذا قسمت الأرض (و) (٣) (حدت) (٤) وصرفت طرقها فلا شفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے فرمایا : جب زمین تقسیم ہوجائے اور حد بندی ہوجائے اور راستے الگ الگ ہوجائیں تو حق شفعہ حاصل نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 24228
٢٤٢٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن يحيى بن سعيد عن عون بن (عبيد اللَّه) (١) بن أبي رافع عن عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عمر قال: قال (عمر) (٢): إذا وقعت الحدود وعرف الناس حقوقهم فلا شفعة بينهم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب حدود الگ ہوجائیں اور لوگ اپنے اپنے حق کو پہچان لیں تو ان میں سے کسی کو شفعہ کا حق حاصل نہیں۔