حدیث نمبر: 24078
٢٤٠٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عامر في الرجل يقول للرجل: عندك شهادة؟ فيقول: لا، ثم يجيء فيشهد، (قال) (١): (هي) (٢) (جائزة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص دوسرے سے پوچھے تیرے پاس گواہ ہیں ؟ وہ کہے کہ نہیں۔ پھر وہ خود آ کر اس کے حق میں گواہی دے۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ گواہی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 24079
٢٤٠٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن جعفر بن محمد قال: شهد القاسم بن محمد بشهادة عند أبان بن عثمان لرجل، فجعل الرجل يُذكّره شيئا في شهادته، فيقول: لا أذكره ولا أحفظ إلا هذا، ثم خرج فذكر والقوم قعود فقال: إن هذا سألني شيئا في شهادتي كانت لا أذكره له، وإني قد ذكرته وإني أشهد أن ما (قال) (١) حق وأنا أشهد به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعفر فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم بن محمد حضرت ابان بن عثمان کے پاس ایک شخص کی گواہی کے لئے حاضر ہوئے، اس شخص نے آپ کو گواہی میں ایک بات یاد دلائی، آپ فرمانے لگے کہ مجھے یاد نہیں آ رہا اور میں نے اس کے علاوہ یا د بھی نہیں کیا، پھر نکلے اور آپ کو یاد آگیا ابھی لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے فرمایا : اس نے مجھ سے گواہی کے متعلق کچھ سوال کیا تھا جو مجھے یاد نہیں تھا اور اب مجھے یاد آگیا ہے، میں گواہی دیتا ہوں جو اس نے کہا وہ سچ ہے اور میں اس پر گواہی دیتا ہوں۔