٢٤٠٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عبد اللَّه بن دينار عن ابن عمر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "البيعان بالخيار في بيعهما، ما لم (يتفرقا) (١)، إلا أن يكون بيعهما (عن) (٢) خيار" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیع کرنے والوں کو الگ ہونے سے پہلے اختیار ہے، الا یہ کہ ان کی بیع میں خیار کی شرط ہو (تب افتراق کے بعد بھی ان کو خیار ہوگا) ۔
٢٤٠٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن (سعيد) (١) عن قتادة عن صالح (٢) أبي (الخليل) (٣) عن عبد اللَّه بن الحارث عن حكيم بن حزام أن النبي ﷺ قال: "البيعان بالخيار ما لم (يتفرقا) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بائع اور مشتری کو جدا ہونے سے پہلے تک اختیار ہے۔
٢٤٠٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين قال: حدثنا حماد بن زيد عن جميل بن مرة عن أبي (الوضيء) (١) عن أبي برزة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "البيعان بالخيار ما لم (يتفرقا) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔
٢٤٠٣٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هاشم بن القاسم قال: حدثنا (أيوب) (١) ابن عتبة قال: حدثنا أبو كثير (السحيمي) (٢) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "البيعان بالخيار ما لم (يتفرقا) (٣) من بيعهما، أو يكون (بينهما) (٤) (خيار) (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیع کرنے والوں کو جدا ہونے تک اختیار ہے یا یہ کہ ان کے درمیان کوئی خیار شرط وغیرہ ہو۔
٢٤٠٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير بن عبد الحميد عن عبد العزيز بن رفيع عن ابن أبي مليكة وعطاء (قالا) (١): قال رسول اللَّه ﷺ: "البيعان بالخيار حتى ⦗٤٠٢⦘ (يتفرقا) (٢) عن رضى"] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیع کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک کہ وہ راضی ہو کر الگ نہ ہوجائیں۔
٢٤٠٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز بن رفيع (عن) (١) ابن أبي مليكة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "البيعان بالخيار ما لم (يتفرقا) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیع کرنے والوں کو الگ ہونے سے قبل اختیار ہے ۔
٢٤٠٤١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن شريح قال: البيعان بالخيار ما لم (يتفرقا) (١)] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح سے اسی طرح مروی ہے۔
٢٤٠٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي (١) في رجل اشترى من رجل برذونا، فأراد أن يرده قبل أن (يتفرقا) (٢) فقضى الشعبي أنه قد وجب عليه، فشهد عنده أبو الضحى أن شريحا أُتي في مثل ذلك فرده على البائع، فرجع الشعبي إلى قول شريح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے سے ایک گھوڑا خریدا، پھر اس نے الگ ہونے سے قبل واپس کرنا چاہا، لیکن حضرت شعبی نے بیع کو اس پر لازم قرار دیا، تو ابو الضحٰی نے آپ کے سامنے گواہی دی کہ حضرت شریح کے پاس بھی ایسا مسئلہ آیا تھا، آپ نے بائع پر مبیع کو واپس کردیا تھا۔ حضرت شعبی نے حضرت شریح کے قول کی طرف رجوع فرما لیا۔
٢٤٠٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن (محمد) (١) بن إسحاق عن نافع عن ابن عمر، قال: البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، فكان ابن عمر إذا باع ⦗٤٠٣⦘ انصرف ليوجب البيع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ بیع کرنے والوں کو جدا ہونے تک اختیار ہے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب بیع کرتے تو وہاں سے پھرجاتے (الگ ہوجاتے) تاکہ بیع نافذ ہوجائے۔
٢٤٠٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن (ابن) (١) أبي السفر عن الشعبي عن شريح قال: البيعان بالخيار ما لم يتفرقا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ بیع کرنے والوں کو جدا ہونے تک اختیار ہے۔
٢٤٠٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام (بن) (١) زياد عن سعيد بن المسيب قال: البيعان بالخيار ما لم يتفرقا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب سے بھی یہی مروی ہے۔
٢٤٠٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن عبد العزيز بن رفيع عن ابن أبي مليكة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "البيعان بالخيار ما لم يتفرقا" (١).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اسی طرح مروی ہے۔