حدیث نمبر: 24031
٢٤٠٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (عن) (١) الأوزاعي عن واصل بن أبي جميل عن مجاهد قال: اشترك أربعة رهط على عهد رسول اللَّه ﷺ (في) (٢) زرع، فقال أحدهم: قبلي الأرض، وقال الآخر: قبلي الفدان، وقال الآخر: قبلي البذر، وقال الآخر: علي العمل، فلما (استحصد) (٣) الزرع تفاتوا فيه إلى النبي ﷺ (٤) فجعل الزرع لصاحب البذر، وألغى صاحب الأرض، وجعل لصاحب الفدان شيئا معلوما، وجعل لصاحب العمل درهما كل يوم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں چار آدمیوں نے زراعت میں اشتراک کیا، ان میں سے ایک نے کہا : زمین میری طرف سے، دوسرے نے کہا : بیل میری طرف سے، تیسرے نے کہا : دانہ میری طرف سے ، چوتھے نہ کہا : کام سارا میرے ذمہ، جب کھیتی تیار ہوگئی تو وہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ علیہ السلام نے دانہ والے کے لئے کھیتی، زمین والے کے لئے بھوسا ، بیل والے کے لئے کچھ معلوم حصہ اور کام کرنے والے کے لئے ہر دن کے حساب سے ایک درہم مقرر فرما دیا۔ حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مجھے نوکر سے (غلام) زیادہ پسند ہے، حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہمیں زراعت سے زیادہ سونے اور چاندی اور کھانے کی تجارت پسند ہے۔ حضرت وکیع فرماتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ مزارعت بالنصف، ثلث اور ربع بھی جائز ہے کیونکہ لوگ (بکثرت) یہ کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 24032
٢٤٠٣٢ - قال واصل: فحدثت به مكحولا فقال: لهذا الحديث أحب إلي من (وصيف) (١).
حدیث نمبر: 24033
٢٤٠٣٣ - قال وكيع: (من) (١) أحب الزرع إلينا التجارة بالذهب والفضة والطعام وهو قول سفيان.
حدیث نمبر: 24034
٢٤٠٣٤ - قال وكيع: (ونرجوا) (١) أن يكون النصف والثلث والربع جائزا؛ لأن الناس يعملون به.