٢٤٠١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن الشيباني عن [الشعبي عن عبد اللَّه بن عتبة وشريح في الرجل يبيع العبد وعليه دين قال] (١): دينه على مولاه ولا يجاوز ثمنه، وإذا باعه وله مال فماله للذي ابتاعه -يعني المشتري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو ایسا غلام فروخت کرے جس پر قرض ہو، فرمایا : اس کا قرض آقا کے ذمہ ہے۔ اس کے ثمن سے تجاوز نہ کرے، اور اگر ایسا غلام فروخت کرے جس کے پاس مال ہو ، تو اس کا مال مشتری کے لئے ہوگا۔
٢٤٠٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إذا بيع العبد وعليه دين وله مال، فماله للذي ابتاعه. (ودينه على الذي باعه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی ایسا غلام فروخت کرے، جس پر قرض ہو اور اس کے پاس مال بھی ہو، تو اس کا مال مشتری کے لئے ہے، اور اس کا قرضہ فروخت کرنے والے پر ہے۔
٢٤٠٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (أخبرنا) (١) ابن عون وهشام وأشعث عن محمد عن شريح في العبد (يباع) (٢) وعليه دين، قال: دينه على من باعه وأكل ثمنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ کوئی ایسا غلام فروخت کرے جس پر قرضہ ہو، فرمایا : اس کا دین اس پر ہے جس نے اس کو فروخت کیا ہے، اور اس کے ثمن کو کھایا ہے۔
٢٤٠٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون عن (ابن) (١) سيرين أن (عبد الرحمن) (٢) بن (أُذَيْنة) (٣) أتى في عبد ركبه دين، فقال: ماله بدينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن اذینہ کے پاس غلام لایا گیا جس پر قرضہ تھا، فرمایا : اس کے مال سے اس کا قرضہ اتارا جائے گا۔