حدیث نمبر: 23882
٢٣٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معتمر) (١) بن سليمان عن (سلم) (٢) قال: سألت محمد بن سيرين عن رجل باع سلعة إلى شهرين وشرط على المشتري إن باعها قبل الشهرين أن يَنْقُده، قال: لا أعلم به بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن سیرین سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے دو مہینے کے لئے ایک شخص کو سامان فروخت کیا، اور مشتری پر یہ شرط لگا دی کہ اگر اس کو دو ماہ سے قبل فروخت کیا تو ثمن نقد دینا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا میں تو اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔
حدیث نمبر: 23883
٢٣٨٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يشتري الدار فيقول المشتري للبائع: متى (ما) (١) جئت بثمنها فهي رد عليك، قال: يبطل شرطه ويجوز عليه البيع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ آدمی گھر خریدے پھر مشتری بائع سے یوں کہے کہ جب بھی میں اس کے پیسے لے کر تیرے پاس آیا تو وہ تجھ پر رَد ہوگا ، تو یہ شرط باطل ہوگی اور بیع لازم ہوجائے گی۔
حدیث نمبر: 23884
٢٣٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كل شرط في بيع فالبيع يهدمه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ بیع میں جو بھی خلاف بیع شرط لگائی جائے تو بیع اس شرط کو منہدم کردیتی ہے۔