کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ مکاتب سے سامان لینے میں کوئی حرج نہیں
حدیث نمبر: 23661
٢٣٦٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عاصم بن سليمان عن بكر المزني عن ابن عمر قال: لا بأس أن يأخذ الرجل من مكاتبه (عروضا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مکاتب سے سامان وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23662
٢٣٦٦٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الربيع قال: كتب إلينا عمر بن عبد العزيز ليأخذ الرجل (من) (١) مكاتبه عروضا] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے ہمیں لکھا کہ آدمی اپنے مکاتب سے سامان بھی لے سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 23663
٢٣٦٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر أنه كان يكره أن يقاطع مكاتبه على ذهب أو فضة، وقال: لا، إلا (بعرض) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص اپنے مکاتب کو سونے اور چاندی اپنے پر ہی مجبور کرے۔ انہوں نے فرمایا کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہے البتہ اگر ساتھ میں سامان بھی ہو تب جائز ہے۔
حدیث نمبر: 23664
٢٣٦٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن التيمي عن الحسن بن مسلم قال: كتب عمر بن عبد العزيز إلى أهل المدينة و (إلى) (١) أهل مكة (أو إحداهما) (٢) فنهاهم عن مقاطعة المكاتبين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن مسلم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اہل مدینہ یا اہل مکہ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کو لکھا کہ ان کے مکاتبوں کے ساتھ علیحدگی اختیار کرنے سے روکا، اور راوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت طاؤس اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
حدیث نمبر: 23665
٢٣٦٦٥ - (و) (١) قال: هذا لا (يرى) (٢) به بأسا (يعني طاوسًا) (٣).