کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ غلام کے پاس اگر کوئی پیشہ نہ ہو اور پھر اُس کو مکاتب بنایا جائے
حدیث نمبر: 23634
٢٣٦٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ثور عن يونس بن (سيف) (١) عن (حرام) (٢) بن (حكيم) (٣) قال: كتب عمر بن الخطاب إلى (عمير) (٤) ابن (سعد) (٥): أما بعد فإنْهَ من قبلك من المسلمين أن يكاتبوا (أرقاءهم) (٦) على مسألة الناس (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمیر بن سعد کو لکھا اما بعد : اپنے پاس مسلمانوں کو منع کرو کہ وہ اپنے غلاموں کو لوگوں کے سوال پر مکاتب بنائیں۔
حدیث نمبر: 23635
٢٣٦٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبد الكريم عن نافع عن ابن عمر أنه كره أن يكاتب (الرجل) (١) عبده إذا لم يكن له حرفة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ غلام کو بغیر پیشہ کے مکاتب بنالیا جائے۔
حدیث نمبر: 23636
٢٣٦٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) جعفر بن برقان عن ميمون بن مهران قال: كاتب ابن عمر غلاما له (فجاءه) (٢) بنجمه حين حل، فقال: من أين لك هذا؟ قال: كنت أسأل وأعمل، قال: تريد أن تطعمني أوساخ الناس؟ أنت حر ولك نجمك هذا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا تو وہ آپ کے پاس بدل کتابت کی قسط لے کر حاضر ہوا جب آپ تشریف لائے، آپ نے دریافت کیا کہ کہاں سے لے کر آیا ہے ؟ غلام نے کہا کہ میں نے لوگوں سے سوال کیا اور کچھ کام کیا، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا تو مجھے لوگوں کے مال کی میل کھلانا چاہتا ہے ؟ جا تو آزاد ہے ، اپنی قسط بھی لے جا۔
حدیث نمبر: 23637
٢٣٦٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي جحر الفراء عن أبي ليلى (الكندي) (١) أن سلمان أراد أن يكاتب غلاما له فقال: من أين؟ قال: أسأل الناس، قال: تريد أن تطعمني أوساخ الناس؟ فأبى أن يكاتبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمان نے اپنے غلام کو مکاتب بنانے کا ارادہ کیا، پھر اس سے پوچھا مال کہاں سے لائے گا ؟ اس نے کہا کہ لوگوں سے مانگ کر، آپ نے فرمایا : کیا تو مجھے لوگوں کی میل کھلانا چاہتا ہے ؟ پھر اس کو مکاتب بنانے سے انکار کردیا۔
حدیث نمبر: 23638
٢٣٦٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن جابر عن عامر قال: إن شاء كاتب عبده، وإن شاء لم يكاتبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو مکاتب بنا لو اور اگر چاہو تو نہ بناؤ۔
حدیث نمبر: 23639
٢٣٦٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا (حماد بن) (١) سلمة قال: أخبرني حميد (عمن حدثه) (٢) عن ابن عباس أنه كاتب عبدًا له واشترط عليه ألا يستكد الناس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا اور اس پر شرط لگا دی کہ لوگوں سے سوال نہ کرے گا۔