حدیث نمبر: 23595
٢٣٥٩٥ - حدثنا أبو بكر (قال: حدثنا وكيع) (١) قال: حدثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: لا بأس أن يشتري الصك (بالبز) (٢) على الرجل نوى أو لم (ينو) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ آدمی اگر چیک کے بدلے میں کپڑے خرید لے تو اس پر کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 23596
٢٣٥٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا زكريا عن الشعبي، قال: (سألته) (١) عن رجل اشترى من رجل (صكا فيه) (٢) ثلاثة دنانير بثوب، قال: لا يصلح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص نے دوسرے سے کپڑوں کے بدلے میں دستاویز خریدا ہے جس میں تین دینار ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ درست نہیں۔
حدیث نمبر: 23597
٢٣٥٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبد اللَّه بن أبي السفر عن الشعبي أنه كرهه وقال: هو غرر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اس کو ناپسند کرتے تھے، فرماتے تھے کہ یہ دھوکا ہے۔
حدیث نمبر: 23598
٢٣٥٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: إذا تبين إفلاس الرجل فلا يجوز عتاقه وعليه دين، وإن لم يتبين إفلاسه فعتاقه جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کا افلاس ظاہر ہوجائے تو اس کے لئے غلام آزاد کرنا جائز نہیں ہے جب کہ اس پر دین ہو، اور اگر اس کا افلاس ظاہر نہ ہو تو اس کے لئے غلام آزاد کرنا جائز ہے۔