کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص غلام کو مکاتب بنا لے اور اُس کی میراث کی شرط لگا دے کہ وہ میں وصول کروں گا
حدیث نمبر: 23586
٢٣٥٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن محمد أن رجلا كاتب غلاما له واشترط ولاءه وميراثه وداره، فلما أدى مكاتبته عتق (ثم مات) (١) فخاصم أولياؤه (في ميراثه) (٢) فأبطل شريح ذلك، فقال المولى: فما يغني (عني) (٣) شرطي (منذ) (٤) عشرين سنة؛ فقال شريح: شرط اللَّه قبل شرطك منذ خمسين سنة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو مکاتب بنا لیا، اور اس کی ولاء ، میراث اور گھر کی اپنے لیے شرط لگا دی، جب غلام نے بدل کتابت ادا کیا تو وہ آزاد ہوگیا، پھر اس کا انتقال ہوگیا، اس کی وفات کے بعد اس کے اولیاء کا میراث کے بارے میں جھگڑا ہوگیا، حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس کو باطل کردیا، اس کے آقا نے کہا کہ مجھے اس میں سال سے لگائی ہوئی شرط کا کیا فائدہ ہوا ؟ حضرت شریح نے فرمایا : اللہ کی شرط تجھ سے پہلے پچاس سال سے ہے، اور اس کا زیادہ حق ہے۔
حدیث نمبر: 23587
٢٣٥٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن خالد (أن عديًا) (١) (كتب) (٢) إلى عمر بن عبد العزيز في رجل كاتب غلاما له وشرط (عليه) (٣) سهما من ميراثه، ⦗٢٧٩⦘ فكتب أنه ليس لأحد شرط (ينقض أو ينتقص) (٤) شيئًا من فرائض اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو لکھا کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا ہے، اور اس نے میراث میں سے ایک حصہ کی اپنے لئے شرط لگائی ہے، حضرت عمر نے جواب تحریر فرمایا کہ : کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ وہ شرط لگا کر اللہ کے فرائض میں سے کمی کر دے۔
حدیث نمبر: 23588
٢٣٥٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: سئل عطاء عن رجل كوتب واشترط عليه أهله أن لنا (سهما) (١) من (ميراثك) (٢)، قال: لا، شرط اللَّه قبل شرطهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے دریافت کیا گیا ایک شخص نے غلام کو مکاتب بنایا اور اس کے اہل نے یہ شرط لگا دی کہ تیری میراث میں سے ایک حصہ ہمارا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں ! اللہ تعالیٰ کی شرط اس کی شرط سے پہلے مقرر ہے۔
حدیث نمبر: 23589
٢٣٥٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سويد بن عمرو عن أبي عوانة عن مغيرة عن إبراهيم بنحو من (قول) (١) عطاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے بھی اسی طرح مروی ہے۔