کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قاضی اور والی کا ہدیہ وصول کرنا
حدیث نمبر: 23353
٢٣٣٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خلف بن خليفة عن منصور عن الحكم عن أبي وائل عن مسروق قال: القاضي إذا أخذ هدية فقد أكل السحت، وإذا أخذ الرشوة بلغت به الكفر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں قاضی اگر ہدیہ وصول کرے تو اس نے حرام کھایا اور اگر وہ رشوت لے تو کفر تک پہنچ گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23353
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23353، ترقيم محمد عوامة 22384)
حدیث نمبر: 23354
٢٣٣٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن معاذ بن العلاء عن أبيه عن جده قال: خطب علي بالكوفة وبيده قارورة (فقال) (١): (ما) (٢) (أصبت) (٣) بها منذ ⦗٢١٣⦘ دخلتها إلا (هذه) (٤) أهداها إلي دهقان (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معاذ بن العلاء اپنے والد اور دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں خطبہ دیا اور ان کے ہاتھ میں ایک شیشی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں جب سے خلیفہ بنا ہوں مجھے صرف یہ ایک ہدیہ ملا ہے جو مجھے ایک دہقان نے بھیجا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23354
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23354، ترقيم محمد عوامة 22385)
حدیث نمبر: 23355
٢٣٣٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن يوسف بن المهاجر قال: أهدى (الاصبهبذ) (١) إلى عبد الحميد أربعين ألفًا أو أقل أو أكثر، فكتب إلى عمر بن عبد العزيز فكتب إليه إن كان يهدي لك وأنت بالجزيرة فاقبلها منه، وإلا فاحسبها له من خراجه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یوسف بن مہاجر سے مروی ہے کہ لشکر کے قائد نے عبد الحمید کو چالیس ہزار یا اس سے کچھ کم یا اس سے کچھ زیادہ ہدیہ بھیجا۔ انہوں نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو تحریر کیا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے تحریر فرمایا : اگر آپ کو ہدیہ اس وقت ملا ہے جب جزیرہ میں تھے تو پھر قبول کرلو، وگرنہ میں اس کو اس کی طرف سے خراج شمار کروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23355
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23355، ترقيم محمد عوامة 22386)
حدیث نمبر: 23356
٢٣٣٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير (عن) (١) منصور عن إبراهيم قال: كان يقال: الرشوة في الحكم سحت.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں رشوت کا حکم یہ ہے کہ وہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23356
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23356، ترقيم محمد عوامة 22387)
حدیث نمبر: 23357
٢٣٣٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن خيثمة قال: قال عمر: بابان من السحت (يأكلهما) (١) الناس: الرشا ومهر الزانية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حرام کے دو دروازے ہیں جن سے لوگ کھاتے ہیں ، ایک رشوت اور زانیہ کے مہر کی کمائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23357
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23357، ترقيم محمد عوامة 22388)
حدیث نمبر: 23358
٢٣٣٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسحاق بن منصور عن عبد اللَّه بن (عمرو ابن) (١) (مرة) (٢) (عن أبيه) (٣) قال: سألت سعيد بن جبير عن السحت، فقال: الرشاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بن مرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے حرام کے متعلق دریافت کیا۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا وہ رشوت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23358
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23358، ترقيم محمد عوامة 22389)
حدیث نمبر: 23359
٢٣٣٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن شعبة عن أبي قزعة عن أبي نضرة عن أبي سعيد قال: هدايا الأمراء غلول (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں امراء کے ہدایا خیانت ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23359
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ وأخرجه مرفوعًا الخليلي في الإرشاد [١/ ٤٤٤ (١١٥)].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23359، ترقيم محمد عوامة 22390)
حدیث نمبر: 23360
٢٣٣٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن (١) (قرة) (٢) عن أبي يزيد المديني قال: سئل جابر (بن) (٣) عبد اللَّه عن هدايا الأمراء فقال: هي في نفسي غلول (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے امراء کے ہدایا کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ میرے خیال میں خیانت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23360
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مرفوعًا الطبراني في الأوسط (٤٩٦٩) و (٩٠٥٥)، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ١١٠، والقزويني في التدوين ٢/ ٢٣٢، وابن عدي ١/ ٢٨٤، والسهمي في تاريخ جرجان ١/ ٢٩٥ (٤٩٦)، ومحمد بن خلف في أخبار القضاة ١/ ٦٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23360، ترقيم محمد عوامة 22391)
حدیث نمبر: 23361
٢٣٣٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن أبي معاذ عن طاوس قال: هي سحت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ یہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23361
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23361، ترقيم محمد عوامة 22392)
حدیث نمبر: 23362
٢٣٣٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن (الأعمش) (١) عن شقيق قال: قدم معاذ من اليمن برقيق في (زمن) (٢) أبي بكر، فقال له عمر: (أدفعهم) (٣) إلى أبي بكر، قال: ولِمَ (أدفع) (٤) إليه (رقيقي) (٥)؟ قال: فانصرف إلى منزله ولم ⦗٢١٥⦘ (يدفعهم) (٦)، فبات ليلته ثم أصبح من الغد (فدفعهم) (٧) إلى أبي بكر، فقال له عمر: ما بدا لك؟ قال: رأيتني فيما يرى النائم كاني إلى نار (أهوي) (٨) إليها، فأخذتَ بحجزتي فمنعتني من دخولها، (فظننت) (٩) أنهم هؤلاء الرقيق، فقال (له) (١٠) أبو بكر: هم لك فلما انصرف (١١) إلى منزله قام يصلي فرآهم يصلون خلفه فقال: لمن تصلون؟ فقالوا: للَّه، (فقال) (١٢): اذهبوا أنتم (للَّه) (١٣) (١٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شقیق سے مروی ہے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں یمن سے غلاموں کو لائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : یہ غلام کو دے دو ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنے غلام ان کو کیوں دے دوں ؟ پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہاپنے گھر تشریف لے گئے۔ اور غلاموں کو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس نہیں لے کر گئے۔ انہوں نے رات گذاری پھر جب اگلی صبح ہوئی تو انہوں نے غلام ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دے دئیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت فرمایا : آپ رضی اللہ عنہ پر کیا ظاہر ہوئی جو آپ نے ایسا کیا ؟ حضرت معاذ نے فرمایا کہ میں نے خود کو خواب میں دیکھا کہ آگ میرے قریب ہے اور میں اس میں دھکیلا جا رہا ہوں۔ پھر آپ نے مجھے ازار بند کی جگہ سے پکڑ کر آگ میں گرنے سے بچا لیا۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب ان غلاموں کی وجہ سے ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : یہ سب غلام تمہارے ہیں۔ پھر جب حضرت معاذ گھر تشریف لائے تو نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے، غلاموں کو دیکھا کہ وہ بھی ان کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا تم کس کے لئے نماز پڑھ رہے ہو ؟ انہوں نے کہا اللہ کے لئے، حضرت معاذ نے فرمایا : جاؤ تم اللہ کے لئے آزاد ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23362
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23362، ترقيم محمد عوامة 22393)
حدیث نمبر: 23363
٢٣٣٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن أبي حميد الساعدي أن النبي ﷺ استعمل (ابن) (١) (اللتبية) (٢) على صدقات بني سليم، فلما جاء قال: هذا لكم، وهذا أهدي لي، فقام النبي ﷺ فخطب الناس فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: "ما بال (٣) رجال نوليهم أمورًا مما (ولانا) (٤) ⦗٢١٦⦘ (اللَّه) (٥) فيجيء (أحدكم) (٦) فيقول: هذا لكم وهذا أهدي إلي، أفلا يجلس في بيت أبيه أو بيت أمه حتى تأتيه هدية إن كان صادقًا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن اللتبیہ کو بنی سلیم کے صدقات پر عامل بنایا۔ جب وہ آئے تو کہا یہ تمہارے لئے ہے اور یہ میرے لیئے ہدیہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء فرمائی اور پھر فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ان کو کسی کام کا والی (نگران) بنایا جاتا ہے ان امور میں سے جن کا اللہ نے ہمیں بنایا ہے۔ پھر ان میں سے ایک شخص یہ کہتا ہوا آتا ہے کہ : یہ تمہارے لئے ہے اور یہ میرے لئے ہدیہ ہے۔ اگر وہ سچا ہے تو اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہیں بیٹھ جاتا تاکہ یہ ہدیہ اس کے پاس وہیں آجائے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23363
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٥٠٠)، ومسلم (١٨٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23363، ترقيم محمد عوامة 22394)
حدیث نمبر: 23364
٢٣٣٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس (عن) (١) عدي (بن) (٢) عميرة الكندي قال: سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "من استعملناه منكم (على عمل) (٣) فكتمنا مخيطا (فما فوقه) (٤) كان غلولًا يأتي به يوم القيامة"، فقام إليه رجل (أسود) (٥) من الأنصار كأني أنظر إليه فقال: يا (رسول) (٦) اللَّه أقبل عني عملك قال: (وما ذاك؟ " قال: سمعتك (تقول) (٧) كذا وكذا قال: "فأنا أقول الآن: من استعملناه منكم على عمل فليأتنا بقليله وكثيره، فما أوتي منه أخذ، وما نهي عنه انتهى" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن عمیرہ الکندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے کسی کو کسی کام پر عامل مقرر کیا جائے پھر وہ اس میں سے سوئی یا اس سے زائد کچھ چھپالے۔ تو یہ خیانت ہے جو بروز قیامت سامنے لائی جائے گی۔ انصار میں سے ایک سیاہ شخص اس حال میں کھڑا ہوا گویا کہ میں اس کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ نے جو کام مجھے سونپا تھا اس کو واپس لے لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا میں نے آپ کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے اس طرح اس طرح۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اب اس کو پھر کہتا ہوں۔ تم میں سے کسی کو کسی کام پر عامل مقرر کردیا جائے اس کو چاہیے کہ اس کے تھوڑے اور زائد کو ہمارے پاس لائے۔ جو اس میں سے دیا جائے اس کو لے لے اور جس سے روکا جائے اس سے منع ہوجائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23364
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٨٣٣)، وأحمد (١٧٧١٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23364، ترقيم محمد عوامة 22395)
حدیث نمبر: 23365
٢٣٣٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سعيد بن عبيد الطائي عن علي بن ربيعة، (أن عليا) (١) استعمل رجلا من بني أسد يقال له: ضبيعة بن ⦗٢١٧⦘ زهير أو زهير بن ضبيعة، فلما جاء قال: يا أمير المؤمنين إني أهدي إلي في عملي أشياء وقد أتيتك بها، فإن كانت حلالا أكلتها وإلا فقد أتيتك بها، فقبضها علي وقال: لو حبستها كان غلولًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہابن ربیعہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنو اسد میں سے ایک شخص کو عامل بنایا۔ جس کا نام ضبیعہ بن زہیر یا زہیر بن ضبیعہ تھا، جب وہ واپس آیا تو کہا : اے امیر المؤمنین ! مجھے کافی ہدیے دئیے گئے۔ میں وہ سب آپ کے پاس لے کر حاضر ہوا ہوں۔ اگر تو وہ میرے لئے حلال ہیں تو میں اس سے کھا لوں ۔ وگرنہ میں وہ آپ کو دے دیتا ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے لے لئے اور فرمایا : اگر تو ان کو اپنے پاس رکھتا تو یہ خیانت ہوتی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23365
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23365، ترقيم محمد عوامة 22396)
حدیث نمبر: 23366
٢٣٣٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن ليث عن أبي الخطاب عن أبي زرعة عن أبي إدريس عن ثوبان قال: لعن النبي ﷺ الراشي والمرتشي (والرائش) (١) -يعني الذي يمشي بينهما (٢) -.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے رشوت دینے والے ، رشوت لینے والے اور ان کے مابین جو معاونت کا ذریعہ بنے ان سب پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23366
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23366، ترقيم محمد عوامة 22397)
حدیث نمبر: 23367
٢٣٣٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي ذئب عن (خاله) (١) الحارث عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن عبد اللَّه بن عمرو قال: لعن رسول اللَّه ﷺ الراشي والمرتشي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23367
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الحارث صدوق، أخرجه أحمد (٦٥٣٢)، وأبو داود (٣٥٨٠)، والترمذي (١٣٣٧)، وابن ماجة (٢٣١٣)، ووكيع في أخبار القضاة ٦/ ٤١، وابن الجارود (٥٨٦)، والطيالسي (٢٢٧٦)، وعبد الرزاق (١٤٦٦٩)، وابن حبان (٥٠٧٧)، والحاكم ٤/ ١٠٢، والطبراني في الصغير (٥٨)، والبيهقي ١٠/ ١٣٨، والبغوي (٢٤٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23367، ترقيم محمد عوامة 22398)
حدیث نمبر: 23368
٢٣٣٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى بن عبيد عن الحارث بن عمير عن يحيى بن سعيد قال: لما بعث النبي ﷺ ابن رواحة إلى أهل خيبر أهدوا له (فردة) (١) ⦗٢١٨⦘ فقال: هو سحت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ کے نبی ﷺ نے حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خیبر بھیجا تو انہوں نے ان کو ہدیے دئیے۔ آپ رضی اللہ عنہ وہ واپس کر دئیے اور فرمایا یہ حرام ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23368
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ يحيى ليس صحابيًا، أخرجه مالك في الموطأ (١٣٨٨)، والبيهقي (٤/ ١٢٢)، وابن عساى (٢٨/ ١١١)، وأخرجه متصلًا من حديث ابن عمر، ابن حبان (٥١٩٩)
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23368، ترقيم محمد عوامة 22399)
حدیث نمبر: 23369
٢٣٣٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلى عن الحارث (بن عمير) (١) عن يحيى بن سعيد قال: كتب عمر إلى أهل العراق: إن لنا هدايا دهاقيننا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عراق والوں کو لکھا : ہمارے چوہدریوں اور زمینداروں کے ہدایا ہمارے لیے ہیں (یعنی ہمیں بھیجو اور خود اپنے پاس مت رکھو) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23369
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23369، ترقيم محمد عوامة 22400)
حدیث نمبر: 23370
٢٣٣٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي حصين عن شريح قال: لعن (١) الراشي والمرتشي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رشوت دینے اور لینے والے پر لعنت کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23370
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23370، ترقيم محمد عوامة 22401)