کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص اتنے اتنے کی چیز خریدے اور اُس کو پھر مرابحۃً فروخت کرے، پس وہ زیادہ وصول کر لے
حدیث نمبر: 23237
٢٣٢٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن أبي (سنان) (١) (عن) (٢) عبد اللَّه بن الحارث قال: مر رجل بقوم فيهم رسول اللَّه ﷺ ومعه ثوب، (٣) أراه قال: (برد) (٤) فقال له بعضهم: بكم ابتعت؟ أراه قال: هو (بزيادة) (٥) على ثمنه. ثم قال: كذبت، وفيهم رسول اللَّه ﷺ فرجع فقال: يا رسول اللَّه ابتعته بكذا وكذا بدون ما (قال) (٦)، فقال: رسول اللَّه ﷺ: "تصدق بالفضل" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : ایک شخص ایک قوم کے پاس سے گذرا جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف فرما تھے، اس کے پاس کپڑا تھا ، جس کی قیمت اس نے حقیقی قیمت سے زائد بتلائی، راوی کہتے ہیں کہ وہ چادر تھی۔ قوم کے لوگوں میں سے بعض نے اس سے پوچھا : کتنے کا فروخت کر رہا ہے ؟ میرا گمان ہے اس نے قیمت سے زائد بتلایا ۔ پھر اس نے کہا کہ میں نے جُھوٹ بولا ہے۔ ان میں رسول اکرم ﷺ بھی موجود تھے۔ پھر وہ لوٹا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! میں نے اس کو اتنے اتنے کا فروخت کیا جتنے کا یہ تھا اس کے علاوہ میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو زیادہ وصول کیا ہے اس کو صدقہ کر دے۔