حدیث نمبر: 23157
٢٣١٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: (سألته) (١) عن حكومة اليهود والنصارى إذا تحاكموا إلينا، (فقال) (٢): أحكم بينهم بحكمك في المسلمين، لا يجوز بينهم إلا ما يجوز بين (المسلمين) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ یہودی و نصاریٰ کے درمیان کیسے فیصلہ کیا جائے، جب وہ اپنا فیصلہ ہمارے پاس لائیں ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : ان کے درمیان مسلمانوں کی طرح فیصلہ کرو، ان میں بھی وہی امور جائز ہیں جو مسلمانوں میں جائز ہیں۔
حدیث نمبر: 23158
٢٣١٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن الحسن قال: خلوا بين أهل الكتاب وبين (أحكامهم) (١)، فإذا ارتفعوا إليكم فأقيموا عليهم ما في كتابكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب اور ان کے فیصلوں کو چھوڑ دو ، جب وہ فیصلہ لے کر خود تمہارے پاس آئیں تو ان کے مابین اپنی کتاب (یعنی قرآن پاک) کے مطابق فیصلہ کرو۔
حدیث نمبر: 23159
٢٣١٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن (سماك) (١) عن قابوس بن (مخارق) (٢) عن أبيه قال: بعث (عليٌ) (٣) محمدَ بن أبي بكر أميرًا على مصر، فكتب محمد إلى علي يسأله عن مسلم فجر بنصرانية، فكتب علي: أن أقم الحد على المسلم الذي فجر بالنصرانية، (وادفع) (٤) النصرانية إلى النصارى يقضون فيها ما شاءوا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو مصر کا حاکم بنا کر بھیجا، حضرت محمد رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تحریر کیا اور دریافت فرمایا کہ ایک مسلمان نے نصرانیہ عورت سے زنا کیا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب تحریر فرمایا کہ جس مسلمان نے نصرانیہ کے ساتھ زنا کیا ہے اس پر حد جاری کرو، اور نصرانیہ خاتون کو نصاریٰ کے حوالہ کردو وہ اس کے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کریں۔
حدیث نمبر: 23160
٢٣١٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن السدي عن عكرمة قال: نسخت هذه الآية: ﴿وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ﴾ [المائدة: ١٤٩]، (فاحكم بينهم أو أعرض عنهم).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی آیت { وَأَنِ احْکُمْ بَیْنَہُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّہُ } منسوخ ہوگئی ہے قرآن کی آیت { اُحْکُمْ بَیْنَہُمْ ، أَوْ أَعْرِضْ عَنْہُمْ } سے۔
حدیث نمبر: 23161
٢٣١٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (عكرمة عن) (١) عطاء قال: إن شاء حكم، وإن شاء لم يحكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو فیصلہ کرلو اور اگر چاہو تو نہ کرو۔
حدیث نمبر: 23162
٢٣١٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: رجم ⦗١٧٠⦘ النبي ﷺ يهوديًا بعثت (١) (به) (٢) يهود مع (يهودي) (٣) ومنافق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس یہودی کو رجم فرمایا تھا جس کو یہود نے ایک یہودی اور منافق کے ساتھ بھیجا تھا۔
حدیث نمبر: 23163
٢٣١٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن سماك عن جابر بن سمرة أن النبي ﷺ رجم يهوديًا ويهودية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور خاتون کو رجم فرمایا۔
حدیث نمبر: 23164
٢٣١٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية ووكيع عن الأعمش عن عبد اللَّه ابن مرة عن البراء أن النبي ﷺ رجم يهوديًا (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی کو رجم فرمایا۔
حدیث نمبر: 23165
٢٣١٦٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد الرحيم بن سليمان عن مجالد عن عامر) (١) عن جابر (بن) (٢) عبد اللَّه (أن رسول) (٣) اللَّه ﷺ رجم (يهوديًا) (٤) ويهودية] (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی مرد اور خاتون کو رجم فرمایا۔
حدیث نمبر: 23166
٢٣١٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن نافع عن ابن عمر أن النبي ﷺ رجم يهوديين، أنا فيمن رجمهما (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یہودیوں کو رجم فرمایا۔ میں بھی ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے ان کو رجم کیا تھا۔