٢٣٠٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (ابن) (١) إدريس عن الشيباني عن القاسم قال: أسلم عبد اللَّه في (وصفاء) (٢)، أحدهم أبو زائدة مولانا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے خادموں میں سلم کیا ان میں سے ایک ہمارے آقا ابو زائدہ بھی تھے۔
٢٣٠٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن الشيباني عن عامر: (أنه) (١) كان لا يرى بذلك بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٢٣٠٤٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام (بن حرب) (١) عن خصيف عن سعيد بن المسيب أنه لم ير بذلك بأسًا] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
٢٣٠٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن ليث عن طاوس قال: لا بأس بالسلم في الحيوان (١) عند أصحاب الشاء إذا سميت الآجال و (الأسنان) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بکریوں والوں کے نزدیک حیوان کی بیع سلم میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ وقت متعین ہو اور عمر بھی مقرر ہو۔
٢٣٠٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى (عن) (١) يونس عن الحسن: أنه لم ير بأسًا أن يسلم في الحيوان أسنانا (مسماة) (٢) إلى أجل مسمى.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ حیوان کی بیع سلم میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے جبکہ عمر اور وقت متعین اور مقرر ہو۔
٢٣٠٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء: أنه كان لا يرى بأسًا بالسلم في الحيوان، وأن يأخذ الرجل دون شرطه وفوقه من الأسنان إذا طابت بذلك نفس (المعطي) (١) والآخذ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ حیوان کی بیع سلم میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔ جبکہ آدمی شرط سے کم وصول کرلے اور اس سے اوپر بھی عمروں میں جبکہ لینے والا اور دینے والا دونوں راضی ہوں۔
٢٣٠٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمران الأحول عن مجاهد قال: سمعته يقول: كنا نسلم في الوصفاء كذا وكذا (شبرا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ہم لوگ خادموں میں بیع سلم کرتے تھے کہ وہ غلام اتنے اتنے بالشت کا ہونا چاہیے (لمبائی وچوڑائی میں) ۔
٢٣٠٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا معمر بن (سام) (١) عن أبي جعفر قال: لا بأس بالسلم [في الحيوان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حیوان کی بیع سلم میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٢٣٠٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا رواد بن (جراح) (١) عن الأوزاعي عن الزهري: أنه لم ير بأسًا بالسلم] (٢) في الوصفاء إذا كان سن معلوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ غلاموں کی بیع سلم میں حرج نہیں سمجھتے تھے جب کہ اس کی عمر معلوم ہو۔
٢٣٠٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (ميسر) (١) عن ابن جريج عن عطاء: أنه لم ير بذلك بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
٢٣٠٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن (يوسف) (١) عن حميد (عن) (٢) أبي نضرة قال: سألت ابن عمر عن السلم في الحيوان في الوصفاء فقال: لا بأس به (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حیوان ( خادموں) میں بیع سلم کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔