کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ام ولد کی بیع کرنا
حدیث نمبر: 22951
٢٢٩٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع، قال: حدثنا) (١) شريك عن حسين ابن عبد اللَّه عن عكرمة عن ابن عباس قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أيما رجل ولدت منه أمته فهي معتقة عن دبر منه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کی باندی اس سے بچہ جَنْ دے وہ اس کے مرنے کے بعد آزاد ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22951
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف حسين، أخرجه أحمد (٢٧٥٩)، وعبد الرزاق (١٣٢١٩)، والدارمي (٢٥٧٤)، والدارقطني (٤/ ١٣٠)، وابن ماجه (٢٥١٥)، والحاكم ٢٢/ ١٩، والبيهقي ١٠/ ٣٤٦، وابن حزم في المحلى ٩/ ١٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22951، ترقيم محمد عوامة 22009)
حدیث نمبر: 22952
٢٢٩٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن إسماعيل بن أبي خالد (١) عن الشعبي عن عبيدة عن علي قال: استشارني عمر في بيع أمهات الأولاد فرأيت أنا وهو إذا ولدت (عتقت) (٢)، فقضى به عمر (حياته) (٣) وعثمان من ⦗١١٣⦘ بعده، فلما وليت الأمر (من بعدهما) (٤) (رأيت) (٥) أن أرقها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ام ولد کی بیع کے متعلق مشورہ طلب فرمایا۔ میری اور ان کی رائے یہ ہوئی کہ جب ام ولد بچہ جَنْ دے تو وہ آقا کے مرنے کے بعد آزاد کردی جائے گی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں اسی پر فیصلہ فرمایا : اور آپ رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی اسی پر فیصلہ فرمایا، پھر جب ان کے بعد میں امیر المؤمنین بنا تو میں نے یہی بہتر سمجھا کہ اس کو باندی بنا دوں، حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت ابن سیرین نے بیان فرمایا کہ میں نے حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا علی رضی اللہ عنہ نے ادراکِ اختلاف کے وقت جو قول اختیار کیا ہے اس سے زیادہ مجھے وہ رائے پسند ہے جو علی رضی اللہ عنہ اور عمر کی مشترکہ رائے تھی صحابہ کے مشورہ میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22952
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه سعيد بن منصور ق ١/ (٢٠٤٧)، ووكيع في أخبار القضاة ٢/ ٩٩، والبيهقي ١٠/ ٣٤٣، والدولابي ٨/ ١٠٠٨ (١٧٧٠)، وابن شبه (١٢١١)، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ٢/ ٦٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22952، ترقيم محمد عوامة 22010)
حدیث نمبر: 22953
٢٢٩٥٣ - قال الشعبي: فحدثني ابن سيرين قال: (قلت لعبيدة: ما ترى) (١)؟ قال: رأي عمر وعلي في الجماعة أحب إلي من قول علي حين أدرك في (الاختلاف) (٢) (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22953
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد صدوق، أخرجه سعيد (٢٠٤٨)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٢٣٥، والبيهقي ١/ ٣٤٣ و ٣٤٨، وعبد الرزاق (١٣٢٢٤)، وابن شبة (١٢١٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22953، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 22954
٢٢٩٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد قال: أخبرنا نافع أن رجلين من أهل العراق (سألا) (١) ابن عمر بالأبواء (قالا) (٢): تركنا ابن الزبير يبيع أمهات الأولاد بمكة، فقال عبد اللَّه (بن عمر) (٣): (لكن) (٤) (أبو (حفص) (٥) عمر) (٦) -أتعرفانه؟ - قال: أيما رجل ولدت منه جارية فهي له ⦗١١٤⦘ متعة حياته، وهي حرة من بعد موته، وأيما رجل وطئ جارية ثم أضاعها فالولد له والضيعة عليه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع سے مروی ہے کہ اہل عراق میں سے دو اشخاص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے الأبواء مقام میں سوال کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے ابن زبیر کو مکہ میں اس حال پر چھوڑا کہ وہ ام ولد کی بیع کر رہے تھے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا لیکن کیا تم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا : جس کی باندی اس سے حاملہ ہو کر بچہ جن دے وہ اس کے لئے اس کی زندگی میں نفع کا سامان ہے اور اس کے مرنے کے بعد وہ باندی آزاد ہے ، اور جس شخص نے باندی سے ہمبستری کی اور بچہ ضائع کردیا اور وہ بچہ اسی کا ہے اور بچہ ضائع کرنے کا وبال اسی پر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22954
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو خالد الأحمر صدوق، أخرجه البيهقي ١٠/ ٣٤٨.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22954، ترقيم محمد عوامة 22011)
حدیث نمبر: 22955
٢٢٩٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن زيد بن وهب قال: مات رجل من الحي وترك أم ولد (فقال) (١) الوليد بن عقبة: يبيعها، فأتينا عبد اللَّه ابن مسعود فسألناه فقال: إن كنتم لا بد فاعلين فاجعلوها من نصيب ابنها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وہب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ محلہ میں ایک شخص فوت ہوگیا، اس کی ایک ام ولد تھی، حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کو فروخت کردو، ہم لوگ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ بیشک لازمی ایسا کرنا چاہتے ہو تو اس باندی کو اس کے بیٹے کے حصہ میں رکھ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22955
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22955، ترقيم محمد عوامة 22012)
حدیث نمبر: 22956
٢٢٩٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن سلمة بن فييل عن زيد بن وهب قال: باع عمر بن الخطاب أمهات (الأولاد) (١) فينا، ثم ردهن فينا حتى ردهن (حبالى) (٢) من (تستر) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وھب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہماری ام اولاد کو فروخت کردیا۔ پھر وہ ہمیں لٹا دی گئیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22956
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22956، ترقيم محمد عوامة 22013)
حدیث نمبر: 22957
٢٢٩٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن الأعمش عن إبراهيم قال: أتت عليًا (١) أم ولد فقال: إن عمر قد أعتقكن (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ام ولد آئی ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بیشک حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ام ولد کو آزاد کیا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22957
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22957، ترقيم محمد عوامة 22014)
حدیث نمبر: 22958
٢٢٩٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن جعفر بن برقان عن ميمون بن مهران قال: فشى في عسكر عمر بن عبد العزيز أنه يرى بيع أمهات الأولاد، فدخل ⦗١١٥⦘ عليه رجل فذاكره (في) (١) ذلك، فإذا عمر (أشد) (٢) في عتقهن من الرجل الذي ذاكره ذلك، وإذا عمر يرى أن (ذلك) (٣) رأي عمر بن الخطاب (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون بن مہران سے مروی ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کے لشکر میں یہ بات پھیل گئی کہ عمر بن عبدالعزیز ام ولد کی بیع کو جائز سمجھتے ہیں۔ پھر ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور اس نے اس بارے میں سوال کیا۔ تب معلوم ہوا کہ عمر بن عبدالعزیز سوال کرنے والے آدمی سے بھی زیادہ سختی سے ام ولد کی آزادی کے قائل تھے اور نیز عمر بن عبدالعزیز کے نزدیک عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی بھی یہی رائے تھی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22958
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22958، ترقيم محمد عوامة 22015)
حدیث نمبر: 22959
٢٢٩٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن دينار، قال: قيل لابن عمر: إن (ابن) (١) الزبير يبيع أمهات الأولاد، فقال ابن عمر: لكن عمر قضى أن لا تباع ولا توهب (ولا تورث) (٢)، يستمتع (منها) (٣) صاحبها حياته، (فإذا) (٤) مات فهي حرة (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہام ولد کی بیع کرتے ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا کہ بیشک حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا تھا کہ اس کی بیع نہ کی جائے، نہ اس کو ہبہ کیا جائے اور نہ ہی اس میں وارثت جاری ہوگی، اس کا آقا اپنی زندگی میں فائدہ اٹھائے گا اور اسکے مرنے کے بعد یہ آزاد ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22959
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22959، ترقيم محمد عوامة 22016)
حدیث نمبر: 22960
٢٢٩٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين (بن) (١) علي عن زائدة عن عمرو (٢) ابن قيس (عن زيد) (٣) بن وهب عن عبد اللَّه أنه ذكر له بيع أمهات الأولاد، فقال: (لكن عمر) (٤) القوي الأمين أعتقهن (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے ام ولد کی بیع کا ذکر کیا گیا ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو قوی بھی تھے اور امین بھی تھے وہ ان کو آزاد کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22960
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22960، ترقيم محمد عوامة 22017)
حدیث نمبر: 22961
٢٢٩٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن خالد (١) عن عامر قال: قضى عثمان في أم الولد أنها حرة إذا ولدت من سيدها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ام ولد کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ جب وہ اپنے آقا سے بچہ جن دے تو وہ آزاد ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22961
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22961، ترقيم محمد عوامة 22018)
حدیث نمبر: 22962
٢٢٩٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن أشعث عن سالم (عن عروة) (١) عن ابن عباس أنه جعل أم الولد من نصيب ولدها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ام ولد کو میراث میں بیٹے کے حصہ میں رکھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22962
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أشعث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22962، ترقيم محمد عوامة 22019)