حدیث نمبر: 22935
٢٢٩٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر عن معمر عن حماد في رجل دفع إلى رجل (متاعًا) (١) مضاربة فقوم (٢) المتاع ألف درهم ثم باعه بتسعمائة قال: رأس المال تسعمائة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کوئی شخص کسی کو بطور مضاربت کوئی سامان دے اور سامان کی قیمت ہزار درہم لگائے، پھر وہ اس کو نو سو درہم میں فروخت کر دے، آپ نے فرمایا راس المال نو سو درہم ہوں گے۔
حدیث نمبر: 22936
٢٢٩٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معاذ) (١) بن معاذ عن أشعث عن الحسن أنه قال في رجل دفع إلى رجل متاعًا مضاربة وقوماه بينهما، قال: رأس المال (٢) ما قوم به المتاع: وليس (قيمتها) (٣) بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ اس مسئلہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ ایک شخص دوسرے کو بطور مضاربت سامان دے اور وہ دونوں اس کی قیمت لگائیں، آپ نے فرمایا جو سامان کی قیمت لگائی گئی ہے وہ راس المال شمار ہوگا، اور اس کی اپنی قیمت کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔
حدیث نمبر: 22937
٢٢٩٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن كثير بن (نباتة) (١) عن الحكم بن أبان عن طاوس أنه كان لا يرى بأسا أن يقوم الرجلُ على الرجل المتاعَ فيدفعه إليه مضاربة بتلك القيمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ آدمی دوسرے سامان کی قیمت لگائے اور پھراس قیمت پر اس کو بطور مضاربت دے دے۔